ایف آئی اے کی انسانی اسمگلرز کیخلاف کارروائی‘ سب ایجنٹ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ (آن لائن) ایف آئی اے کے عملے نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائی کرکے اے ایچ ٹی سی کوئٹہ نے سب ایجنٹ عرفان کو گرفتار کرلیا، کارروائی کے دوران 8 افغان باشندے بھی تحویل میں لے لیے گئے۔ گرفتار ملزم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا اہم کردار نکلامرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی فرارہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔ ملزم کے موبائل سے واٹس ایپ چیٹس اور اہم شواہد برآمدکرلیے گئے ہیں۔ جس سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت سامنے آگئے ہیں۔ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی ضبط کرلیا گیا گرفتار ایجنٹ کے افغانستان میں موجود سہولت کاروں سے رابطوں کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ افغانستان میں موجود تاج محمد اور کامل سے براہ راست روابط کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے تیزگرفتارملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔