اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(آن لائن)حکومت پنجاب نے اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کا فیصلہ کرتے ہوئے بل برائے سال 2026 پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے۔ بل قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے پیش کیا گیا۔قانون سازی کے تحت صوبے میں بسنے والی تمام اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کیلیے بااختیار صوبائی ایکشن کمیٹی قائم کی جائے گی۔ کمیٹی کا چیئرپرسن وزیراعلیٰ کا نامزد کردہ اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی ہوگا جبکہ سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے۔ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی 6 نمایاں شخصیات بشمول ایک خاتون بھی کمیٹی کی رکن ہوں گی۔بل کے مطابق صوبائی ایکشن کمیٹی مشترکہ جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرے گی اور تجاوزات، غیر قانونی قبضے اور غلط استعمال کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی ان جائیدادوں کی فروخت، منتقلی اور لیز کے معاملات پر حکومت کو سفارشات بھی پیش کرے گی۔قانون کے تحت کسی بھی مشترکہ جائیداد کی فروخت، منتقلی، لیز یا مورگیج حکومتی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ایسے تمام معاملات غیر قانونی تصور ہوں گے۔ غیر قانونی فروخت یا منتقلی میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حکومتی امداد، پبلک فنڈز، مخیر حضرات کے تعاون، خیرات یا غیر ملکی فنڈنگ سے حاصل کی گئی جائیدادیں بھی مشترکہ جائیداد شمار ہوں گی اور کوئی فرد واحد ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکے گا۔ پہلے سے کسی فرد کے نام رجسٹرڈ ایسی جائیدادوں کو قانون سازی کے چھ ماہ کے اندر مشترکہ ملکیت میں منتقل کرنا لازم ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشترکہ جائیدادوں
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :