افغانستان: فضائی حملوں میں 80 سے زائد خوارج ہلاک، کئی سرغنہ بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد‘ کابل (اپنے سٹاف رپورٹر سے +نوائے وقت رپورٹ ) پاکستان کی افغانستان میں انٹیلی جنس بیس ائیرسٹرائیکس میں الخوارج کے 7 مراکز کو تباہ کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات پاکستان کی جانب سے افغانستان میں انٹیلی جنس بیس ائیر سٹرائیکس کی گئیں۔ تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اورخوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے 7 مراکز کو تباہ کیا گیا اور کارروائی میں80 سے زائد خوارج کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تباہ کیے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبردو ننگرہار خارجی مولوی عباس مرکزخوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تباہ کیے گئے مراکز میں خارجی ابراہیم مرکزننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرغہ کے علاقہ میں ہنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ علاقہ کمانڈرز خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے۔ ہلاک ہونیوالوں میں کمانڈر اختر محمد شامل ہے۔ یہ پکتیکا میں مارا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ اب دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلا رعایت کارروائیاں کریں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہاکہ پاکستان اب دہشتگردوں کیخلاف انکی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلا رعایت کارروائیاں کرے گا۔ بیان کیمطابق گزشتہ روز بنوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے تانے بانے بھی افغانستان کے گل بہادر گروپ سے ملے تھے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ فضائیہ کی افغانستان میں بروقت اور مؤثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے کامیابی سے نشانہ بنایا۔ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی دراصل اْن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں۔ یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا، یہ ہر اْس ماں کے آنسوؤں کا جواب تھا جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا، یہ ہر اْس بچے کے خوابوں کا دفاع تھا جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا، وہ یاد رکھے ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، ملک پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ریاست پر اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو مٹا دیا جائے گا۔ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جوابی کارروائی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔ نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جس نے ہمیشہ کوشش کی ہمسایوں سے بہتر تعلقات رکھے۔ افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے لوگوں کے جان ومال کی تحفظ کیلئے ہرطرح کی کارروائی کر رہا ہے۔ کارروائیاں پاکستان کے اندر بھی جاری ہیں، 70ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں مختلف قسم کے لوگ گرفتار ہوئے اور کئی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ افغانستان میں ہونے والی یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی، یہ کارروائی 3 مختلف مقامات پر7 جگہوں پر کی گئی۔ ادھر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمہ کیلئے افغان عوام کی پاکستان کو مکمل حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی عوامی تحریک نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی کو خوش آئند قرار دے دیا۔ نیشنل ریززٹنس فرنٹ افغانستان ، طالبان رجیم کیخلاف پاکستانی فضائی کارروائیوں کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔ افغانستان کینیشنل ریززٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سینئر رکن فضل احمد مناوی نے کہا کہ افغان طالبان ایک ظالم گروہ ہے، ہر ایک ضرب جو ان کے سر پر پڑے خوش آئند ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ افغان طالبان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ خدا کی زمین سے ظلم کا ختم ہونا ایک عظیم نعمت ہے۔ افغانستان اور افغان عوام کے مفادات کو بالاتر رکھتے ہوئے ہم ہر ایسے اقدام کا خیر مقدم کریں گے جو ملک اور عوام کیلیے فائدہ مند ہوں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتی ہے۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور بنوں میں ہی رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد، پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دینے کی کوششوں کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے واضح اقدامات کرے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ اور غیر ملکی پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس سب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو پاک افغان سرحدی علاقے میں انتہائی درستگی کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان، عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے، کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے کہ وہ دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے جو کہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔فضائی حملے میں دہشتگردوں کے کئی سرغنہ بھی مارے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افغانستان میں کارروائی میں طالبان حکومت افغان طالبان فتنہ الخوارج کہ پاکستان انٹیلی جنس پاکستان کی پاکستان کے پاکستان ا نے کہا کہ گردوں کے کے مطابق خوارج کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔