پی ٹی اے کیجانب سے 2600 سے 3500 میگا ہرٹز بینڈز کی شرط، کیا 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی بروقت ممکن ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں 5 جی سروس کے مضبوط اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 2600 اور 3500 میگاہرٹز کے بنیادی فریکوئنسی بینڈز کو آئندہ اسپیکٹرم نیلامی میں لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں متعارف کرائی جانے والی نئی موبائل سروس اعلیٰ معیار، تیز رفتار ڈیٹا اور وسیع کوریج کی حامل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد بِٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی اے
اتھارٹی کے مطابق تمام موبائل آپریٹرز کو نیلامی کے عمل میں ان دونوں بنیادی بینڈز میں لازمی طور پر حصہ لینا ہوگا، جبکہ دیگر دستیاب بینڈز میں شرکت اختیاری ہوگی۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ اگر ان مرکزی بینڈز میں سرمایہ کاری یقینی نہ بنائی گئی تو مستقبل میں نیٹ ورک کی رفتار اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاخیر کی افواہیں اور وضاحتپی ٹی اے کی جانب سے 2600 سے 3500 میگاہرٹز بینڈ کی رکھی گئی شرط کے بعد بہت سی ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، کہ پاکستان میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں ایک بار پھر تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی لائسنس, پی ٹی اے عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے 5 جی کی نیلامی مؤخر ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نیلامی کا عمل اپنے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق جاری ہے۔
کمپنیوں کی تیاری اور شرائطانہوں نے بتایا کہ متعلقہ ٹیلی کام کمپنیاں نیلامی میں شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور 27 فروری تک لازمی 15 ملین امریکی ڈالر جمع کرانے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ شرکت کے تمام تقاضے بروقت پورے کیے جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام کمپنیاں چاہتی ہیں کہ نیلامی وقت پر مکمل ہو تاکہ وہ جلد از جلد 5 جی سروس شروع کر سکیں اور مسابقت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:5 جی انٹرنیٹ سروس کب سے شروع ہوگی؟ حکومت نے خوشخبری سنا دی
انہوں نے مزید واضح کیا کہ کمپنیوں کو 2600 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بنیادی فریکوئنسی بینڈز کے تحت ہی کام کرنا ہوگا اور کمپنیوں کی جانب سے اسی فریکوئنسی نظام کے مطابق اپنی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیاں مسلسل بینکوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ وہ 27 فروری تک اپنی بڈز جمع کروا دیں۔
بینک ضمانت اور مالی تقاضےایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ نئے بینڈز متعارف کروانے کا مقصد کنیکٹیویٹی کے مسائل سے بچنا ہے تاکہ صارفین کو بہترین کوالٹی کی سروسز دستیاب ہوں۔ اور جہاں تک کمپنیوں کی بات ہے، کمپنیاں دونوں بینڈز کے 100 میگاہرٹز بینڈ لینے کے لیے تیاری میں ہیں، کیونکہ اسپیکٹرم کیپ بھی مقرر کی گئی ہے تاکہ کوئی ایک آپریٹر کسی ایک بینڈ میں تمام اسپیکٹرم حاصل نہ کر سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 10 مارچ کو واضح ہو جائے گا کہ کمپنیاں کس قدر دلچسپی لے رہی ہیں۔ ابھی مارکیٹ میں جو بھی باتیں چل رہی ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اگر کوئی کمپنی اس شرط کو پورا نہیں کرتی تو وہ خودبخود نہ صرف مقابلے سے باہر بلکہ مارکیٹ سے بھی باہر ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بینڈز کو لازمی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں نیٹ ورک کی کمزوری یا رفتار میں کمی جیسے مسائل پیدا نہ ہوں اور صارفین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نیلامی کی تکمیل کے بعد ملک میں 5 جی سروس کے باقاعدہ اجرا کی راہ ہموار ہو جائے گی، جو ڈیجیٹل ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
مرحلہ وار پروگرام اور عالمی اہمیتڈی جی لائسنس کے مطابق کوالٹی آف سروس اور کوریج بڑھانے کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ فائیو جی لانچ کے لیے 9 سالہ مرحلہ وار پروگرام تیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 3500 میگاہرٹز بینڈ دنیا بھر میں فائیو جی خدمات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ زیادہ رفتار اور کم تاخیر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح 2600 میگاہرٹز بینڈ نیٹ ورک کی گنجائش بڑھانے اور شہری علاقوں میں بہتر کارکردگی یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ان دونوں بینڈز کے امتزاج سے صارفین کو مستحکم اور تیز رفتار انٹرنیٹ میسر آ سکے گا۔
آزمائشی نیلامی اور شفافیتاصل نیلامی سے پہلے ایک آزمائشی نیلامی منعقد کی جائے گی تاکہ سسٹم، سافٹ ویئر اور بولی کے طریقہ کار کو جانچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی تکنیکی خرابی سے بچاؤ ہے۔
دستاویزات اور بڈنگ کا مرحلہنیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو مقررہ تاریخ تک تمام ضروری دستاویزات جمع کروانا ہوں گی اور بینک ضمانت بھی فراہم کرنا ہوگی تاکہ عمل میں سنجیدگی اور مالی استحکام برقرار رہے۔ امکان ہے کہ بولی کا مرحلہ ایک سے زائد دنوں تک جاری رہے، جس کا انحصار مقابلے کی شدت پر ہوگا۔
چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بتایا کہ 5 جی سروس کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں فائیو جی انیبلڈ اسمارٹ فونز 35 ہزار سے 45 ہزار روپے کی قیمت میں دستیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کی سہولت کے لیے یہ فونز آسان اقساط پر بھی فراہم کریں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ڈیجیٹل معیشت پر اثراتپاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی کا آغاز ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نئی سروس سے آن لائن تعلیم، طبی مشاورت، برقی تجارت، اسمارٹ شہروں اور صنعتی خودکاری کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ تیز رفتار رابطے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
3500 میگاہرٹز اسپیکٹرم ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی چیئرمین پی ٹی آئی ڈیجیٹل معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکٹرم ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی چیئرمین پی ٹی ا ئی ڈیجیٹل معیشت ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اسپیکٹرم کی نیلامی میں کی نیلامی کے مطابق پی ٹی اے کا مقصد رہی ہیں پی ٹی ا یہ بھی
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔