سابق اہلیہ کے الزامات پر عماد وسیم کا جوابی وار، قانونی نوٹس بھیج دیا، شواہد کے ساتھ عدالت جانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے ان پر عائد الزامات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری کر دیا ہے۔
لیگل ٹیم کے بیان کے مطابق عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے قتل اور جبری اسقاطِ حمل (ابورشن) کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دفاع کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، جن میں میڈیکل رپورٹس بھی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق یہ میڈیکل شواہد اسقاطِ حمل سے متعلق الزامات کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ نومبر 2023 میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے کیے گئے فیصلے باہمی رضامندی سے ہوئے لہٰذا ان معاملات میں عماد وسیم کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ ڈاکٹرز اس مؤقف کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔
لیگل ٹیم کے مطابق دسمبر 2023 میں جبری اسقاطِ حمل کا دعویٰ کیا گیا تاہم نومبر 2023 کے اختتام پر سفر کے ریکارڈ سمیت دیگر شواہد ان الزامات کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ عدالت میں جمع کرانے کے لیے تمام دستاویزی ریکارڈ اور گواہان کے بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اگر کسی کے پاس اس مؤقف کے برعکس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کے بعد ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اپنے بیانات میں ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر سنگین دعوے کرتے ہوئے انہیں اپنے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق پہلی بار منظر عام پر، اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں ان کا زبردستی اسقاطِ حمل کرایا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی گئی۔
ثانیہ اشفاق نے جولائی 2025ء کی واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے جن میں انہوں نے لکھا کہ انہیں اسپتال میں مقررہ وقت سے پہلے داخل کر کے زچگی کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ ذہنی دباؤ بچے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ذاتی اختلافات ایک طرف رکھے جائیں۔ چار زندگیاں خطرے میں ہیں لہذا معاملہ ختم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم میرے بچے کا قاتل ہے، ویڈیو ثبوت موجود ہیں، سابق اہلیہ کے سنگین الزامات
ثانیہ اشفاق نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے وقت عماد وسیم اسپتال میں موجود ہوں تاکہ سب سے پہلے اپنے بیٹے کو گود میں لے سکیں، جو نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ بطور باپ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معصوم بچے کا کوئی قصور نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر آپ آنے کا فیصلہ کریں تو براہِ کرم مجھے آگاہ کر دیں۔ میرے ساتھ صرف ایک ہی شخص کو اجازت ہوگی اور وہ آپ ہوں گے کوئی اور نہیں۔ اگر نہیں تو میں اسپتال میں بالکل اکیلی جاؤں گی۔
اس حوالے سے عماد وسیم نے ثانیہ اشفاق کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یا ان کے اہلِ خانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ثانیہ اشفاق عماد وسیم عماد وسیم دوسری شادی عماد وسیم نوٹس نائلہ راجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ثانیہ اشفاق عماد وسیم نوٹس نائلہ راجہ ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم کی سابق اہلیہ انہوں نے یہ بھی کے لیے گیا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔