امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ: چین کا ٹرمپ محصولات ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
چین نے ریاستہائے متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد یکطرفہ تجارتی محصولات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرمپ 1977 کے قانون کے تحت ان محصولات کے نفاذ کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔
مزید پڑھیں: پاک انڈیا جنگ میں 10 طیارے مار گرائے گئے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
عدالت کے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کے فیصلے نے ٹرمپ کی نمایاں معاشی پالیسی کو بڑا دھچکا پہنچایا، جس کے باعث عالمی تجارتی نظام میں بے یقینی پیدا ہوئی تھی۔ فیصلے کے بعد ٹرمپ نے مختلف قانونی اختیارات کے تحت پہلے 10 فیصد اور پھر 15 فیصد تک نئے عالمی درآمدی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔
چین کی وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے اثرات کا جامع جائزہ لے رہی ہے اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد یکطرفہ محصولات واپس لے۔ بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین، یورپی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت عالمی تجارت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے اور مختلف ممالک اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی عدالت چین ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ تجارتی محصولات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی عدالت چین ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔