ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر ایٹ: ویسٹ انڈیز کو پر اعتماد زمبابوے کا چیلنج درپیش
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے میں ویسٹ انڈیز کو آج پر اعتماد زمبابوے کا چیلنج درپیش ہوگا، دونوں ہی ٹیمیں اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن ویسٹ انڈیز نے مسلسل چار فتوحات کے ساتھ عالمی کرکٹ میں بھرپور واپسی کی ہے۔
کپتان شائے ہوپ ہوپ دو نصف سنچریز کی مدد سے 155 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں جبکہ شمرون ہٹمائر (134) اور شرفین ردرفورڈ (126) نے مڈل آرڈر میں پاور ہٹنگ کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ دونوں کا ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار رہا ہے۔
اس کے علاوہ آل راؤنڈر جیسن ہولڈر اب تک 7 اور روماریو شیفرڈ 6 وکٹیں اڑا کر اپنی ٹیم کے لیے کافی کارآمد رہے ہیں۔
ویسٹ انڈین ٹیم سپر ایٹ میں بھی فاتحانہ آغاز کے لیے اپنے ہارڈ ہٹرز سے کافی پرامید ہے۔
دوسری جانب سکندر رضا کی زیرقیادت زمبابوے نے ابتدائی مرحلے میں آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے مضبوط حریفوں کو مات دیکرسب کو متاثر کیا ہے۔
22 سالہ برائن بینیٹ دو نصف سنچریز کی مدد سے 175 رنز کے ساتھ ٹیم کے نمایاں بیٹر ہیں۔
تاہم دونوں ٹیموں کے درمیان ایک بڑا فرق ہارڈ ہٹنگ کا ہے۔ زمبابوے نے پورے ٹورنامنٹ میں صرف 8 چھکے لگائے ہیں جبکہ ویسٹ انڈین ٹیم چار میچز میں اب تک 36 چھکے جڑچکی ہے۔
ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم کی وکٹ ویسٹ انڈیز کی طاقتور بیٹنگ کے لیے سازگار خیال کی جارہی ہے، تاہم زمبابوے کے فاسٹ بولر بلیسنگ مزاربانی اور براڈ ایونز کیریبیئن بیٹرز کے قدم اکھاڑنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
دونوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں بالترتیب 9 اور 8 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔