برطانیہ میں دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے نئے قواعد نافذ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ میں 25 فروری سے دوہری شہریت رکھنے والے افراد کے لیے نئے قوانین نافذ ہوں گے، جن کے تحت برطانوی پاسپورٹ نہ رکھنے والے شہری ملک میں داخلے سے روکے جا سکتے ہیں۔
ایسے افراد کو اب الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) یا سرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ کے بغیر سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے قواعد کے مطابق امریکا، کینیڈا اور فرانس سمیت 85 ممالک کے شہری بھی ETA کے بغیر برطانیہ نہیں آ سکیں گے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگریشن سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے اور سرحد پر کنٹیکٹ لیس آمدورفت کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
برطانوی اور آئرش شہری اس قواعد سے مستثنیٰ ہیں، لیکن دوہری برطانوی شہریت رکھنے والوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے درست برطانوی پاسپورٹ یا سرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ کے بغیر سفر نہ کریں تاکہ بورڈنگ سے روکنے یا تاخیر کے مسائل سے بچا جا سکے۔ ETA کے لیے درخواست ‘UK ETA’ ایپ کے ذریعے کی جا سکتی ہے جس کی فیس 16 پاؤنڈ ہے اور زیادہ تر درخواستیں چند منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔