پنجاب میں مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پنجاب میں مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
لاہور : (آئی پی ایس) پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں میت کو اسپتال سے گھر پہنچانے کیلئے مفت ایمبولینس سروس فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے بڑے سرکاری اسپتالوں اور ہر تحصیل میں سرکاری وہیکل سروس شروع کرنے کے لیے پلان طلب کر لیا اور کہا کہ پنجاب کی ہر تحصیل میں اسپتال سے گھر میت لے جانے کیلئے کم از کم ایک وین میسر ہوگی۔
مرحوم کے اہل خانہ 1122پر کال کر کے یا اسپتال کاؤنٹر سے مفت وین سروس لے سکیں گے، میت منتقلی سروس کی اسمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میت کو اسپتال سے دوسرے شہر لے جانے کی سہولت بھی مفت دی جائے گی۔
مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پرائیویٹ ایمبولینس سروس کو بھی ریگولائزکرنے پر اتفاق کیا گیا اور پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کے ریٹ بھی مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسید منظور احمد شاہ کا رمضان المبارک کی آمد پر خصوصی پیغام سرحد پار دہشت گردی پر برداشت کی حد ختم ہو چکی ،طالبان حکومت نے 9/11سے پہلے جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں، صدر مملکت پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، وزارت خزانہ کا اعلامیہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئیں وزارت داخلہ کا سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق شہریوں کو مکمل سہولیات دینے کا فیصلہ وزیراعلی پنجاب نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3کا باقاعدہ افتتاح کر دیا شیر افضل کی گفتگو مایوس کن، علیمہ نے مستعفی ہونے کا پیغام نہیں بھیجا، بیرسٹر گوہرCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میت منتقلی سروس اجلاس میں کا فیصلہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔