پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کا آغاز کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا، سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے بریفنگ دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میت کو ہسپتال سے گھر پہنچانے کیلئے ایمبولینس سروس شروع کرنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں پرائیویٹ ایمبولینس سروس کو بھی ریگولائز کرنے پر اتفاق کیا گیا، پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کے ریٹ بھی مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔
دوران اجلاس بڑے سرکاری ہسپتالوں اور ہر تحصیل میں سرکاری وہیکل سروس شروع کرنے کیلئے پلان طلب کیا گیا ہے۔
پنجاب کی ہر تحصیل میں ہسپتال سے گھر میت لے جانے کیلئے کم ازکم ایک وین میسر ہوگی، مرحوم کے اہل خانہ 1122 پر کال کر کے یا ہسپتال کاؤنٹر سے مفت وین سروس لے سکیں گے۔
میت منتقلی سروس کی سمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی، میت کو ہسپتال سے دوسرے شہر لے جانے کی سہولت بھی مفت دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔