نوکری کا جھانسا دے کر خاتون سے اجتماعی زیادتی،ملزمان نے گردہ بھی نکال لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور:
چوہنگ کے علاقے میں نوکری کا جھانسا دے کر خاتون سے اجتماعی زیادتی اور گردہ نکالنے کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق خاتون کو نوکری کا جھانسا دے کر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں اسے پنڈی منتقل کر دیا گیا جہاں اُسے ایک کوٹھی میں قید رکھ کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں میڈیکل چیک اپ کے دوران انکشاف ہوا کہ خاتون کی بائیں جانب گردہ موجود نہیں ہے۔
حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی عزت و حرمت پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ متاثرہ خاتون کو مکمل قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور خواتین کے لیے محفوظ پنجاب ہمارا عزم ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔