ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے مشہور فٹ بال کلب النصر کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو 30 برس کی عمر کے بعد 500 کلب اور قومی سطح کے گول کرنے والے پہلے فٹبالر بن گئے ہیں۔
یہ سنگ میل سعودی پروفیشنل لیگ کے ایک میچ میں الحزم کے خلاف 4-0 کی شاندار فتح کے دوران حاصل ہوا، جہاں رونالڈو نے اہم کردار ادا کیا۔

اس موقع پر رونالڈو نے سعودی عرب کے یومِ تاسیس کی مناسبت سے روایتی سعودی لباس ”بِشت“ پہن کر فتح کا جشن منایا، بشت یہ لباس سعودی ثقافت میں قیادت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاریخی طور پر یہ لباس اس وقت نمایاں ہوا تھا جب پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔

العظيـمُ بِلا تفـرّع .

. ينتصر في ليلة التأسيس ???? pic.twitter.com/OHJzGDH7zu

— نادي النصر السعودي (@AlNassrFC) February 21, 2026


یہ غیر معمولی جشن غیر ملکی میڈیا نے بھی خوب کور کیا اور رونالڈو کی بشت پہنے تصویر سوشل میڈیا پر محض 40 منٹ میں 40 لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھی، جو تیزی سے وائرل ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رونالڈو نے 30 سال کی عمر تک تقریباً 463 گول کئے تھے، جبکہ اس کے بعد انہوں نے مزید 500 گول سکور کر کے اپنے کیریئر کی لمبی عمر اور غیر معمولی فٹنس کا ثبوت دیا، اس وقت ان کی عمر 41 برس ہے، اس فتح کے بعد النصر سعودی لیگ کی پوائنٹس ٹیبل میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

رونالڈو کی جانب سے بشت پہن کر جشن منانے کو سعودی عرب کی ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

رونالڈو نے پہلے بھی سعودی قومی لباس ’ثوب‘ میں سعودی کپ کی تقریب میں شرکت کی تھی، جس سے سعودی ثقافت عالمی سطح پر اجاگر ہوئی، یہ واقعہ نہ صرف کھیل بلکہ ثقافتی شعور کو فروغ دینے کا بھی ذریعہ بنا۔

رونالڈو نے اپنے کیریئر میں ریال میڈرڈ، مانچسٹر یونائیٹڈ، یووینٹس اور پرتگال کی قومی ٹیم سمیت متعدد ٹیموں کے ساتھ بے شمار ریکارڈ قائم کئے۔

یاد رہے کہ رونالڈو نے 2023 میں النصر کلب میں شمولیت اختیار کی تھی، ان کی آمد کے بعد نہ صرف ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوئی بلکہ سعودی لیگ کو عالمی توجہ بھی حاصل ہوئی، انہوں نے متعدد میچوں میں فیصلہ کن گول کر کے اپنی ٹیم کو شاندار فتوحات سے ہمکنار کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن