سرچ و کومبنگ آپریشن: 2 اشتہاری ملزمان سمیت 13 غیر قانونی مقیم افغانی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی اسکریننگ، رہائشی ریکارڈ اور شناختی دستاویزات کی جانچ جاری ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال میں حساس مقامات، آبادیوں اور بازاروں کی اسکریننگ کی گئی، جس کے دوران 2 اشتہاری ملزمان سمیت 13 غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں پولیس، لیڈی پولیس، رینجرز، ایلیٹ پولیس، ڈولفن اسکواڈ، سی ٹی ڈی سمیت انٹیلیجنس ادارے بھی شریک ہوئے۔
اسکریننگ کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، ضلع اٹک، ضلع چکوال، مری اور ضلع جہلم میں غیر قانونی طور پر مقیم 31 افغان گرفتار کر لیے گئے۔
سیکیورٹی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انڈسٹریل ایریا اور راولپنڈی میں حبیب کالونی، اللّٰہ آباد، کچا اسٹاپ اور اطراف میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔
مری تحصیل کے جنرل بس اسٹینڈ، لاری اڈہ اور گرد و نواح، اٹک، حسن ابدال، حضرو جنڈ، فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں بھی کومبنگ کارروائیاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔
ضلع چکوال کے تمام 12 تھانوں کی حدود میں خصوصی سرچ آپریشن مکمل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: غیر قانونی مقیم افغان
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔