data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-01-26
اسلام آباد/کابل(نمائندہ جسارت+ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے افغانستان کے 3 صوبوں میں فضائی حملے کرکے کالعدم ٹی ٹی پی کے 7ٹھکانے تباہ کردیے ۔ ان حملوں میں 80 سے زاید دہشت گرد مارے گئے۔عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ شب افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ائراسٹرائیک کی گئی ہیں جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے 7مراکز کو تباہ کیا گیا جب کہ 80 سے زاید خوارجی مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جب ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جو 7ٹھکانے تباہ ہوئے ان میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر 2 ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔ ادھروزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جوابی کارروائی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہورہی ہے،پاکستان اپنے لوگوں کے جان ومال کی تحفظ کے لیے ہرطرح کی کارروائی کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہنا تھاکہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتی، دوحا معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کرایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے لیے بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں بروقت اور مؤثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیانمیں طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا، وہ یاد رکھے ہم اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے، ملک پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، ریاست پر اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو مٹا دیا جائے گا۔اْدھر افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عاید کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا بھرپورجواب دیا جائے گا۔افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 بچے شامل ہیں جب کہ باقی 6 خواتین اور مرد ہیں۔صوبہ پکتیکا ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سا لمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمے داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سیکورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اور افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے آصف درانی نے بی بی سی کوبتایا کہ جو ہوا یہ ہونا ہی تھا۔ان کے مطابق پاکستان میں ایک تسلسل سے دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جن میں بڑی اموات ہوئیں اور اب جو افغانستان میں حملے ہوئے یہ افغان طالبان کے لیے ایک وارننگ تھی ’یہ ایک محتاط مگر واضح پیغام ہے کہ سرحد پار پناہ گاہوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔آصف درانی کا کہنا تھاکہ افغان طالبان ایک ریاست کے بجائے شدت پسند گروپ کی طرح روش اختیار کیے ہوئے ہیں،پاکستان میں ہونے والے تمام حملوں میں افغان شہری ہی ملوث نکلتے ہیں جو کہ عام بات نہیں ہے اور نہ وہ عام شہری ہو سکتے ہیں۔ان کی رائے میں اس وقت افغان طالبان بندوق کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم ٹی ٹی پی طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے تو یہ خود افغان طالبان کے لیے بھی زیادہ خطرناک بات ہے تاہم ان کی رائے میں اس گروپ نے ہیبت اللہ اخوند کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے اور وہ افغان طالبان سے باہر نہیں ہیں۔کابل یونیورسٹی کے پروفیسر فیض زالند نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان طالبان کے درمیان تعلقات ناقابل یقین حد تک خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق 2دہائیوں سے بھی زاiد عرصے تک پاکستان ایک دوست ملک کے طور پر طالبان کا حمایتی رہا اور مدد فراہم کرتا رہا مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ان کے مطابق جب افغان طالبان اقتدار میں آئے تھے تو ٹی ٹی پی پر ان کا کنٹرول ضرور تھا مگر پھر جب انہیں لگا کہ پاکستان کی طرف سے ان کے ساتھ وہ تعاون نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وہ امید رکھتے تھے تو پھر انہوں نے اس پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ٹی ٹی پی افغان طالبان کے کنٹرول سے باہر نکل چکی ہے۔ افغانستان کے ردعمل پر فیض زالند کا کہنا تھا کہ پاکستان کو طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی صلاحیت کے بارے میں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کرسکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی طالبان کے ساتھ کشیدگی کی تاریخ مختصر جبکہ تعاون اور دوستی کی داستان زیادہ طویل ہے۔ایک اور افغان تجزیہ کار نے کہا کہ اس زہر کا تریاق بھی پاکستان کے پاس ہے مگر اب وہ نو آبادیاتی دور کی طرح پڑوسی ملک پر حملے کر رہا ہے۔افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب رویہ اپنائے۔افغانستان کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات پاکستان کے افغان سرزمین پر حملے باعثِ تشویش ہیں اور ہم ان کی سخت مذمت کرتے ہیں،ایسے اقدامات افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور یہ عدم استحکام اور بحران کو بڑھا دیں گے۔عبداللہ عبداللہ نے مزید کہا کہ ’بمباری، شہریوں کو نشانہ بنانا اور تشدد کوئی حل نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور مذاکرات کا رستہ ہے۔‘

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان میں کہ پاکستان کی افغان طالبان افغانستان کی افغانستان کے کا کہنا تھا پاکستان کے طالبان کے جائے گا ا کے مطابق ان حملوں کہ افغان ٹی ٹی پی کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ

ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔

اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی