وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، مجموعی 138 ارب ڈالر کی رقم میں نجی اور دیگر واجبات بھی شامل ہیں جبکہ بیرونی عوامی (حکومتی) قرض تقریباً 92 ارب ڈالر ہے، جس پر اوسط سود تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔

وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں حالیہ اضافہ عالمی شرحِ سود میں تیزی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل کردہ فنڈنگ کے تناظر میں ہوا، لہٰذا بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود کی ادائیگی کا تاثر درست نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضے کہاں تک پہنچ گئے؟ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

اعلامیے کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات اس وقت 138 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم اس رقم میں صرف حکومتی قرض شامل نہیں۔

’اس میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک سیکٹر اداروں (ضمانت شدہ اور غیر ضمانت شدہ) کے قرضے، بینکوں کی بیرونی ذمہ داریاں، نجی شعبے کے قرضے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کمپنیوں کے باہمی واجبات بھی شامل ہیں۔ اس لیے اس مجموعی رقم کو بیرونی عوامی (حکومتی) قرض سے الگ سمجھنا ضروری ہے، جو تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق کل بیرونی عوامی قرض کا قریباً 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل مدتی قرضوں پر مشتمل ہے۔ صرف تقریباً 7 فیصد قرض کمرشل بنیادوں پر لیا گیا ہے جبکہ مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔

بیان کے مطابق اس صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود ادا کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر بیرونی عوامی قرض پر اوسط شرح سود تقریباً 4 فیصد ہے، جو زیادہ تر رعایتی قرضوں کی عکاسی کرتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے بیرونی عوامی قرض پر سود کی رقم مالی سال 2022 میں 1.

99 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہو گئی، جو 80.4 فیصد اضافہ بنتا ہے، نہ کہ 84 فیصد جیسا کہ رپورٹ کیا گیا۔ اسی عرصے میں سود کی ادائیگیوں میں 1.60 ارب ڈالر اضافہ ہوا، نہ کہ 1.67 ارب ڈالر۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق متعلقہ مدت میں مختلف قرض دہندگان کو ادائیگیاں اس طرح رہیں۔ آئی ایم ایف کو مجموعی طور پر 1.50 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں سے 580 ملین ڈالر سود تھا؛ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 94 ملین ڈالر سود شامل تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو 1.54 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 615 ملین ڈالر سود تھا، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 419 ملین ڈالر سود شامل تھا، جبکہ بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں 327 ملین ڈالر سود تھا۔

اگرچہ سود کی ادائیگیوں میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے۔ مالی سال 2022 کے بعد قرضوں کے حجم میں معمولی اضافہ ضرور ہوا، لیکن زیادہ تر نئی رقوم رعایتی کثیرالجہتی ذرائع اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) سے حاصل ہوئیں۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ سال 23-2022 کے دوران پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے شدید دباؤ کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے بھی کم سطح پر آ گئے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ای ایف ایف معاہدہ کیا اور دیگر کثیرالجہتی اور رعایتی ذرائع سے فنڈز حاصل کیے۔ ان اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی اور بیرونی کھاتوں کی بہتری میں مدد ملی۔

اعلامیے کے مطابق یہ بھی اہم ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ عالمی شرحِ سود میں اضافے کا نتیجہ بھی ہے۔ 22-2021 میں مہنگائی میں اضافے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو نے مئی 2022 میں شرح سود 0.75 تا 1.00 فیصد سے بڑھا کر جولائی 2023 تک 5.25 تا 5.50 فیصد کر دی۔ اگرچہ بعد میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً 3.75 فیصد رہ گئی ہے، لیکن یہ اب بھی 2022 کی سطح سے کافی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے مقامی و بیرونی قرضوں کا حجم کتنا ہوگیا؟

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر شرح سود میں اس اضافے نے قرض لینے کی لاگت بڑھائی ہے، جس کا اثر بیرونی سود کی ادائیگیوں پر بھی پڑا ہے۔

وزارت خزانہ نے واضح کیاکہ حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام، شفافیت اور معیشت کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ قرضوں سے متعلق اعداد و شمار کو درست تناظر میں پیش کرنا باخبر عوامی مباحثے کے لیے ضروری ہے، اور متعلقہ حلقوں سے گزارش ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ساخت اور عالمی مالی حالات کو مدنظر رکھا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیرونی قرض سود ادائیگی وزارت خزانہ وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سود ادائیگی وی نیوز ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں سود کی ادائیگیوں میں میں کہا گیا ہے کہ ملین ڈالر سود بیرونی عوامی آئی ایم ایف پاکستان کے کے مطابق

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن