اپوزیشن اراکین کا دوبارہ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کرانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف اور اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک بار پھر احتجاج کیا۔
احتجاج کے دوران شرکا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کے لیے احتجاج، علی امین بھی اچانک مرکزی قیادت کے ساتھ بیٹھ گئے، کیا اختلافات ختم ہوگئے؟
احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کی بھی درخواست کی گئی۔
احتجاج میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس اور سلمان اکرم راجہ سمیت عامر ڈوگر، شفیع جان، محمد حسین، شاہد خٹک اور دیگر ارکانِ اسمبلی نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں جبکہ پی ٹی آئی کارکنان نے موٹروے پر 4 روز دھرنا دیا تھا تاہم بعد میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے رمضان کے بعد عمران خان رہائی فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا اوراحتجاج ختم کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔