طالبعلم کا ساتھی پر خنجر سے 27 مرتبہ وار، سی سی ٹی وی فوٹیج خود ہی شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بھوپال میں کلاس 10 کے طالب علم کو 30 سیکنڈ کے دوران 27 مرتبہ چھریوں اور خنجر سے وار کرکے شدید زخمی کر دیا گیا۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے گنیش چوک میں واقع ایک سنوکر کلب میں پیش آیا۔
تحقیقات کے مطابق حملہ آوران، جو خود بھی 16 سال کے کلاس 10 کے طالب علم ہیں، نے اپنی کارروائی کا سی سی ٹی وی فوٹیج خود سوشل میڈیا پر جاری کر دی، جس نے شہریوں میں شدید غصہ پیدا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ 2 کم عمر حملہ آور کلب میں فلمی انداز میں داخل ہوتے ہیں اور چند لمحوں میں متاثرہ نوجوان کو کونے میں دھکیل کر چھری اور خنجر سے حملہ کر دیتے ہیں۔ حملے میں متاثرہ لڑکے کے ایک کلائی پر 10 سے زائد گہرے زخم آئے جبکہ دوسری ہاتھ کی 2 انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ اس کے کندھے اور پیٹھ میں بھی شدید چوٹیں آئیں۔ زخمی نوجوان کے باوجود وہ فرار ہونے میں کامیاب رہا اور فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ طالب علم گوتھم نگر کے علاقے کا رہائشی ہے اور کلب کا باقاعدہ رکن رہا ہے۔ حملہ آور بھی اسی کوچنگ سینٹر میں پڑھتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا کہ واقعہ سے چند دن قبل پول کے کھیل کے دوران ایک جھگڑا ہوا تھا، جس میں متاثرہ لڑکے نے دونوں حملہ آوروں کو تھپڑ مارا تھا، اور مبینہ طور پر یہی انتقام کا سبب بنا۔
یہ بھی پڑھیے: ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج تیار، حملہ آور دھماکے سے قبل کیا کرتا رہا؟
واقعہ کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور دونوں کم عمر ملزمان کو نوٹس کے بعد رہا کر دیا گیا۔ سب انسپکٹر منی پال سنگھ بھادوریا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کیس حملہ کے تحت درج کیا گیا تھا، اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سنگین دفعات شامل کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جھگڑا سی سی ٹی وی فوٹیجز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جھگڑا سی سی ٹی وی فوٹیجز سی سی ٹی وی فوٹیج
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔