کیف: روس نے یوکرین پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس کے نتیجے میں توانائی، ریلوے اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے ایک ہی رات میں تقریباً 50 میزائل اور 300 ڈرون فائر کیے۔

یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا بڑا ہدف توانائی کا شعبہ تھا، تاہم کئی رہائشی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ دارالحکومت کیف اور اس کے نواحی علاقوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر روسی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں یوکرین کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ماسکو کے میئر سرگئی سوبینن نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی جانب سے داغے گئے تقریباً 20 ڈرون ماسکو کی طرف آتے ہوئے تباہ کر دیے گئے، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے ماسکو کے ہوائی اڈوں کی پروازیں معطل کی گئیں۔

یوکرین کی وزارتِ توانائی کے مطابق مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ مغربی شہر لیوو میں بھی دھماکا ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ مقامی حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

یہ حملے روس کے یوکرین پر مکمل حملے کی چوتھی برسی سے چند روز قبل کیے گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت