1 ماہ ہونے کے باوجود تعین نہیں کیا گیا کہ سانحۂ گل پلازا میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے: منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
منعم ظفر— فائل فوٹو
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ اس بار شہر میں حادثات کا سلسلہ جاری ہے، گل پلازا کے بعد متعدد واقعات ہوئے، حکومت کی نا اہلی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحۂ گل پلازا کو 1 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا، تعین نہیں کیا گیا کہ اس میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 14 فروری کو ہم پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، انسدادِ دہشت گردی کے مقدمے بنائے گئے، لیکن ہمارے لوگوں نے صبر سے کام لیا، آج بھی ہمارے لوگ پُرعزم ہیں کہ اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
منعم ظفر کا کہنا ہے کہ رمضان میں 50 فیصد سے زائد آبادی میں پانی موجود نہیں، اب تو عدالت بھی کہتی ہے کہ ٹینکرز کے ذریعے نہیں بلکہ نلکوں کے ذریعے پانی دیں، شہر کے لیے با اختیار بلدیاتی نظام ان کے پاس موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ہم نوالہ ہم پیالہ رہے ہیں، وسائل، اختیارات اور اداروں پر بھی قبضہ ہے، ایس بی سی اے بنایا گیا تو یہی لوگ شامل تھے، کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو جب بند کیا گیا تو ایم کیو ایم کے وزیر تھے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ سڑکوں کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے، گرین لائن منصوبہ 2016ء میں شروع ہوا، جو اب تک مکمل نہیں ہوا، ادھر جہانگیر روڈ کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں مضبوط شہری حکومتیں ہونی چاہئیں، آئین میں صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔