منعم ظفر— فائل فوٹو

امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ اس بار شہر میں حادثات کا سلسلہ جاری ہے، گل پلازا کے بعد متعدد واقعات ہوئے، حکومت کی نا اہلی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحۂ گل پلازا کو 1 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا، تعین نہیں کیا گیا کہ اس میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 14 فروری کو ہم پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، انسدادِ دہشت گردی کے مقدمے بنائے گئے، لیکن ہمارے لوگوں نے صبر سے کام لیا، آج بھی ہمارے لوگ پُرعزم ہیں کہ اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

سانحۂ گل پلازا، ماچس سے کھیلنے والے بچوں کے بیانات لے لیے: ایس ایس پی سٹی

انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔

منعم ظفر کا کہنا ہے کہ رمضان میں 50 فیصد سے زائد آبادی میں پانی موجود نہیں، اب تو عدالت بھی کہتی ہے کہ ٹینکرز کے ذریعے نہیں بلکہ نلکوں کے ذریعے پانی دیں، شہر کے لیے با اختیار بلدیاتی نظام ان کے پاس موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ہم نوالہ ہم پیالہ رہے ہیں، وسائل، اختیارات اور اداروں پر بھی قبضہ ہے، ایس بی سی اے بنایا گیا تو یہی لوگ شامل تھے، کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو جب بند کیا گیا تو ایم کیو ایم کے وزیر تھے۔

امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ سڑکوں کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے، گرین لائن منصوبہ 2016ء میں شروع ہوا، جو اب تک مکمل نہیں ہوا، ادھر جہانگیر روڈ کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں مضبوط شہری حکومتیں ہونی چاہئیں، آئین میں صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ گل پلازا

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا