خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور:
خاتون سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں کاہنہ پولیس نے 12 گھنٹوں میں زیادتی کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
کاہنہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے ملزمان کو ویلنشیاء ٹاون سے ٹریس کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران مقدمہ کارروائی کی خود نگرانی کر رہے تھے۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی کے مطابق متاثرہ خاتون ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی میں رہائش پذیر تھی، خاتون کے جاننے والے نے راشن اور گھریلو کام دلوانے کے بہانے ویلنشیاء ٹاؤن گیٹ 9 پر بلایا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم خاتون کو موٹر سائیکل پر ویلنشیاء ٹاؤن میں واقع زیر تعمیر گھر لے گیا، ملزم نے اپنے دیگر ساتھی سے مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا تھا کہ خاتون کے شور کرنے پر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے، ملزمان ساجد اور لیاقت مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیے گئے۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔