ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کراچی:
ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست کو کمیشن نے مسترد کردیا۔
پیر کو جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے موقع پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، نسرین جلیل و دیگر بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کمیشن کے سربراہ سے استدعا کی کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ پ کے آنے کی خوشی ہے لیکن ابھی کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، آپ تشریف رکھیں۔ ہم فی الحال معذرت چاہتے ہیں ابھی کمیشن کی سماعت جاری ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں، جس پر طارق منصور ایڈووکیت نے بتایا کہ میری جانب سے درخواست پہلے ہی دائر کردی گئی ہے، جسٹس آغا فیصل نے کہا جو درخواست آپ نے دی ہے اس میں فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا۔
بعد ازاں فاروق ستار نے گفتگو میں کہا کہ ہمارے پاس کچھ شواہد اور ثبوت ہیں، مجرمانہ غفلت اور اختیارات کا ناجائز مادرپدر استعمال بھی ہے، اس عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں، گل پلازہ میں تعمیراتی بے ضابطگی پر افسران کیخلاف مقدمہ بھی بنا تھا۔
فاروق ستار نے کہا کہ ہم عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے آٙئے ہیں، ایم کیو ایم ایک جماعت کے طور پر فریق بن سکتی ہے، ہماری دستاویزات میں مضبوط شواہد و ثبوت ہیں، ہم نے ای میل کے ذریعے کمیشن میں پٹیشن دی، ہمیں کہا گیا کہ آپ کی پٹیشن ہماری ضرورت کے مطابق نہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا، آج دوپہر تین بجے تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔
ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزین انکوائری کا حصہ ہیں۔
ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا تھا ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔
بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے کارروائی 25 فروری تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا ایم کیو ایم فاروق ستار ایس ایس پی بتایا کہ نے بتایا کمیشن کی رہے تھے کہا کہ نے کہا ایم کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔