سانحۂ گل پلازا، ماچس سے کھیلنے والے بچوں کے بیانات لے لیے: ایس ایس پی سٹی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سانحۂ گل پلازا کی انکوائری کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات جاری ہیں، ایس ایس پی سٹی نے کمیشن میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ماچس سے کھیلنے والے بچوں کے بیانات لے لیے ہیں، جنہوں نے کہا ہے کہ وہ ماچس سے کھیل رہے تھے۔
ایس ایس پی سٹی نے کہا کہ آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، جب وہاں پہنچا تو دیکھا مین روڈ والی سائیڈ سے آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ یہ کس وقت کی بات ہے؟ ایس ایس پی نے بتایا کہ 10 بج کر 45 منٹ کا وقت تھا، 3 سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، بتایا گیا کہ 2 بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں، ڈی وی آر ملی ہیں، بیسمنٹ سے کچھ چیزیں ملی ہیں، گل پلازا ایسوسی ایشن کے صدر کی ہیں، کچھ لوگ ہنس رہے تھے، کچھ باتیں کررہے تھے، بہت ریلیکس نظر آ رہے تھے۔
سانحہ گل پلازا سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کی اسسمنٹ کیا ہے؟ ایس ایس پی سٹی نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور چیزیں آگ پکڑنے والی ہونا ہے، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟
ایس ایس پی سٹی نے جواب میں کہا کہ 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، کمیشن نے سوال کیا کہ دروازے کھولنا کس کا استحقاق تھا؟ جس پر ایس پی سٹی نے کہا کہ یہ ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا کام لوگوں کو ریسکیو کے کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، انتظامات کرنے چاہیے تھے، ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
کمیشن نے ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ سے سوال کیا کہ 2 ایکڑ کے پلاٹ پر آگ لگی، ریسکیو اداروں کی گاڑیاں تھیں، کیسے روانی برقرار رکھی؟
کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟
انہوں نے کہا کہ 1 ماہ پہلے سے گرین لائن کا کام شروع ہوا ہے، گل پلازا کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5 ہزار 200 اہلکاروں کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔
زونل منیجر گارڈن سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ منصور احمد نے بتایا کہ گل پلازا میں گیس کے 4 کنکشنز تھے، 2 کمرشل، ایک صنعتی اور ایک گھریلو کنکشن تھا۔
کمیشن نے پوچھا کہ گیس کا صنعتی کنکشن کس لیے تھا؟ ونل منیجر ایس ایس جی سی نے کہا کہ گل پلازا میں چلر چلائے جاتے تھے، آگ لگنے کے بعد گیس کی سپلائی معطل کر دی تھی، نومبر سے صنعتی کنکشن معطل تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ یعنی چلر نہیں چل رہے تھے؟ جس پر زونل منیجر نے بتایا کہ جب آگ لگی گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری تھی۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ پہلی بار لوڈ شیڈنگ کا فائدہ ہوا ہے، اگر گیس لائن میں آگ لگتی تو زیادہ خطرناک ہوتا؟ زونل منیجر نے کہا کہ کنکشن عمارت کے اندر نہیں باہر تھے۔
کراچیسانحہ گل پلازہ ،جاں بحق افراد کے لواحقین کے.
صدر چیمبر آف کامرس ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ جن کی دکانیں جلی ہیں ان سے کلیم فارم لیے ہیں، 11 کمیٹیاں بنائی ہیں، تمام دکانداروں کے کلیم کی تصدیق کی گئی، 1208 دکانیں ہیں، 849 کلیم آئے ہیں، 3 کیسز مسترد کیے ہیں، 786 کلیم منظور کیے ہیں،51 کلیم پر تنازع ہے۔
میونسپل کمشنر کے ایم سی نے کہا کہ ایم ایس جنیکا کے پاس99 سال کی لیز ہے، کراچی میونسپلٹی کو چیف کمشنر نے قراردار کے ذریعے زمین دی، 1884ء میں ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی کو لیز دی گئی تھی، ایسٹ انڈیا کمپنی نے 5 لوگوں کو زمین فروخت کی، 5 لوگوں نے 1976ء میں انور علی کو زمین فروخت کی، 1983ء میں انور علی نے زمین ایم ایس جنیکا کو فروخت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کمیشن نے سوال کیا کہ ایس ایس پی سٹی نے ایسوسی ایشن نے بتایا کہ نے کہا کہ سانحہ گل گل پلازا ماچس سے رہے تھے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔