بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہا ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
عبدالرشید مناس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے جنسی تشدد کے واقعات کو مسلسل نظر انداز کیا ہے اور ایسے گھناونے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے فورسز اہلکاروں کو آرمڈ فورسزا سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت تحفظ فراہم کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت اور اس کی فورسز کشمیریوں کی تذلیل کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے ان کے جائز مطالبے کو دبانے کے لیے جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید مناس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے جنسی تشدد کے واقعات کو مسلسل نظر انداز کیا ہے اور ایسے گھناونے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے فورسز اہلکاروں کو آرمڈ فورسزا سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت تحفظ فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور 23 فروری جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے جب بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں داخل ہو کر 100 سے زائد عفت مآب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جبکہ تقریباً 200 مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں بھارتی فوجیوں کو قصوروار پایا گیا تاہم بعد میں بھارتی حکومت نے اس واقعے کی پردہ پوشی کرتے ہوئے قصورواروں کو کلین چٹ دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا ہے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔