data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران اور ماسکو کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ایران روس سے جدید ’وربا‘ فضائی دفاعی نظام خریدے گا۔

برطانوی اخبار فنانشل تائمز کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت تقریباً 60 کروڑ ڈالر ہے اور یہ معاہدہ گزشتہ برس دسمبر میں ماسکو میں طے پایا۔

اس پیش رفت کو خطے میں بدلتی ہوئی عسکری حکمت عملی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت روس آئندہ 3 برس میں ایران کو 500 ’وربا‘ لانچ یونٹس اور 2500 ’9M336‘ میزائل فراہم کرے گا۔ ان میزائلوں کی ترسیل 2027 سے 2029 کے دوران تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محدود تعداد میں یہ سسٹم پہلے ہی ایران کے حوالے کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

’وربا‘ روس کا جدید پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو کندھے پر رکھ کر فائر کیا جاتا ہے اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سسٹم انفراریڈ گائیڈڈ ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ڈرونز، کروز میزائلوں اور کم بلندی پر اڑنے والے طیاروں کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی نقل و حرکت میں آسانی اسے میدان جنگ میں تیزی سے تعینات کرنے کے قابل بناتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران یہ اقدام گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران اپنے متاثرہ فضائی دفاعی ڈھانچے کی بحالی اور مضبوطی کے لیے کر رہا ہے۔  خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی خطرات کے پیش نظر تہران اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں عسکری توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کی توجہ ایک بار پھر ایران روس دفاعی تعاون کی جانب مبذول کرا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان