ٹرمپ کی رہائش گاہ پر غیر قانونی داخلے کی کوشش، فائرنگ میں مسلح شخص مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی سیکرٹ سروس نے ریاست فلوریڈا میں واقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی رہائش گاہ مار اے لاگو میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک مسلح شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص شاٹ گن اور ایک فیول کین اٹھائے ہوئے تھا۔ حکام کے مطابق واقعہ پیش آنے پر سیکرٹ سروس کے دو اہلکاروں اور پام بیچ کاؤنٹی کے ایک ڈپٹی شیرف نے اسے روک کر ہتھیار اور فیول کین زمین پر رکھنے کا حکم دیا۔
پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف رِک بریڈشا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ شخص نے پیٹرول کا کین تو زمین پر رکھ دیا، تاہم شاٹ گن کو فائرنگ کی پوزیشن میں اٹھا لیا، جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں موجود تھے اور مار اے لاگو میں موجود نہیں تھے۔ واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی نے سنبھال لی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے فوری طور پر واقعے کے محرکات سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔