علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج ،وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
(ارشادقریشی)علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کر دی گئی۔
راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کے مقدمے کی سماعت ہوئی،علیمہ خان کے وکیل محمد فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئےاورعلیمہ خان کی ایک روز حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکی۔
سینئر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ پر مشتمل پراسیکیوشن نے استثنیٰ کی درخواست پر مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جان بوجھ کر عدالتی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں،درخواست خارج کی جائے ۔
عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
شہر میں 255 ٹریفک حادثات رپورٹ, 295 افراد زخمی
پولیس کو جاری ورانٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے احکامات بھی جاری کئے گئے،سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: درخواست خارج کی درخواست علیمہ خان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔