حماس کا نیا سربراہ کون ہوگا؟ تنظیم کا انتخابی عمل آخری مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
غزہ: حماس نے اپنے نئے سربراہ کے انتخاب کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دو اہم رہنما خالد مشعل اور خلیل الحیہ اس عہدے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
ایک سینئر حماس عہدیدار کے مطابق گروپ نے حال ہی میں 80 سے زائد اراکین پر مشتمل نیا شوریٰ کونسل اور 18 رکنی سیاسی بیورو تشکیل دے دیا ہے۔
شوریٰ کونسل کے اراکین ہر چار سال بعد غزہ، مغربی کنارے اور خارجی قیادت کے نمائندوں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ قید شدہ حماس کارکنان بھی ووٹ دینے کے اہل ہیں۔
مزید پڑھیںغزہ بورڈ آف پیس اجلاس کے باہر شدید احتجاج؛ ٹرمپ کا پتلا جلادیا
غزہ میں کون کون سے مسلم ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتادیا
پاکستان غزہ میں امن کیلیے کردار ادا کریگا، حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہونگے، دفتر خارجہ
عہدیدار نے بتایا کہ نئے سربراہ کا انتخاب صرف ایک سال کے لیے ہوگا۔ یہ انتخاب اسرائیل کی طرف سے گزشتہ برس کئی حماس رہنماؤں کے ہلاک کیے جانے کے بعد انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے، جس میں سابق سربراہ اسماعیل ہانیہ بھی شامل ہیں۔
غزہ میں گزشتہ برس ہونے والی لڑائی اور امریکی ثالثی کے بعد بھی حماس اور اسرائیل کے درمیان تشدد جاری ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔