افطار سے پہلے بنائی گئی فروٹ چاٹ کی تازگی برقرار رکھنے کا آسان طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
رمضان المبارک میں افطاری کی تیاری گھریلو خواتین کے لیے ایک بڑا مرحلہ ہوتا ہے، اور ان تیاریوں میں فروٹ چاٹ کو تازہ اور خوش رنگ رکھنا اکثر ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے سے کاٹے گئے پھل فریج میں رکھنے کے بعد اپنی تازگی اور رنگت کھو بیٹھتے ہیں، جس سے افطار کی ڈش کی کشش متاثر ہو جاتی ہے۔
فروٹ چاٹ کےلیے پھل پہلے سے کاٹ کر رکھنے پر وہ مرجھائے ہوئے اور بے رونق دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرِ غذائیت نے مشورہ دیا کہ پھل کاٹنے کے فوراً بعد انہیں ایئر ٹائٹ ڈبے میں محفوظ کرلیا جائے اور افطار کے وقت ہی اس میں لیموں، چینی، چاٹ مسالہ یا دیگر اجزا شامل کیے جائیں۔ یہ طریقہ پھلوں کی تازگی کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے۔
یہ اہم نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ فروٹ چاٹ کےلیے کیلے کو پہلے سے کاٹ کر فریج میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ بہت جلد سیاہ پڑ جاتا ہے۔ پھل نہایت نازک ہوتے ہیں اور اگر ان میں پہلے سے نمک، چینی یا مسالے شامل کردیے جائیں تو وہ پانی چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی اصل رنگت اور ساخت کھو دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بہترین طریقہ یہی ہے کہ تمام پھل سادہ حالت میں ٹھنڈے کرکے رکھے جائیں اور افطار سے کچھ دیر پہلے ان میں لیموں، چاٹ مسالہ یا دیگر اجزا شامل کیے جائیں۔ اس آسان احتیاط سے نہ صرف فروٹ چاٹ تازہ اور دلکش نظر آتی ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی بہتر رہتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔