سوشل میڈیا پر ’ٹرولنگ‘ کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ علما کی اہم رائے سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
علمائے کرام نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ، گالم گلوچ، فحش زبان اور ویوز کے لیے جھوٹے کیپشنز استعمال کرنے کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
یہ بات نجی ٹی وی شو کی رمضان ٹرانسمیشن میں اینکر وسیم بادامی کے سوال کے جواب میں سامنے آئی جنہوں نے فقہی نقطہ نظر سے ٹرولنگ کی اجازت کے بارے میں سوال کیا۔ اینکر نے کہا کہ پہلے اسے گالی دینا کہا جاتا تھا لیکن اب اس عمل کو ’ٹرولنگ‘ کا نام دے دیا گیا ہے اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
View this post on Instagram
A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
اس پر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ عنوان بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ جو شخص گالم گلوچ کرتا ہے اور فحش زبان استعمال کرتا ہے اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑتے ہیں اور یہ عمل کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’وہ آدھے ہندوستان کو گرفتار کرلے گی‘، پاکستانیوں کی جانب سے مودی سرکار کی ٹرولنگ
میزبان کے سوال پر کہ مس لیڈنگ کیپشنز جو زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے لگائی جاتی ہیں اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ علمائے کرام نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی کیپشنز لگانا اور لوگوں کو دھوکہ دینا ذہنی اذیت کا سبب بنتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی ویڈیو کو کلک کرتا ہے اور اسے توقع کے مطابق مواد نہیں ملتا تو یہ شدید ناراضگی اور تکلیف پیدا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا عمل نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے متاثر ہونے والے شخص پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کا گناہ بھی اس شخص کے اعمال میں شامل ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرولنگ رمضان ٹرانسمیشن سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر ٹرولنگ علمائے کرام گمراہ کیپشنز ویوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹرولنگ سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر ٹرولنگ گمراہ کیپشنز ویوز سوشل میڈیا کرتا ہے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔