برلن فلم فیسٹیول میں غزہ نسل کشی پر جرمن وزیر کو شرمندگی کا سامنا، تقریب سے واک آؤٹ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
برلن: جرمن وزیر کارسٹین شنیڈر نے برلن فلم فیسٹیول میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران واک آؤٹ کر دیا، جب فلسطینی-شامی ہدایتکار عبداللہ الخطیب نے اسرائیل کے غزہ پر حملوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے جرمن حکومت پر اس میں شراکت داری کا الزام عائد کیا۔
الخطیب کو ان کا فلمی ایوارڈ "Chronicles from the Siege" کے لیے دیا گیا تھا۔ انہوں نے خطاب میں کہا: "جرمن حکومت اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی شراکت دار ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس حقیقت کو تسلیم کریں، لیکن آپ نے نظر انداز کیا۔"
اس موقع پر وزیر کارسٹن شنیڈر نے کہا کہ یہ باتیں ناقابل قبول ہیں اور فوری طور پر تقریب سے باہر چلے گئے۔ برلن کے میئر اور جرمن سیاستدانوں نے بھی اس بیان کی مذمت کی، جبکہ اسرائیلی سفیر نے وزیر کے موقف کو سراہا۔
فیسٹیول کے دوران غزہ کی جنگ کے بارے میں جاری تناؤ نے تقریب کے سیاسی رنگ کو مزید نمایاں کر دیا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے حملوں کو نسل کشی کے زمرے میں رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔