ملک کے شمال میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب کے خطرات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
شمالی پاکستان میں بڑھتا ہوا درجۂ حرارت گلیشیئر پگھلاؤ کو تیز کر رہا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والا سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات نے کہا کہ موسم سرما کے دوران شمالی پاکستان میں بارش، برفباری معمول سے کم رہی ہے جس کی وجہ سے یکم سے 22 فروری کے دوران گلگت بلتستان میں درجۂ حرارت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے کے دوران.
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ زائد رہا جبکہ سب سے زیادہ گرمی گلگت اور بنجی میں دیکھی گئی جبکہ چلاس اور بنجی میں راتیں بھی گرم رہیں۔
دوسری جانب درمیانی اور کم بلندی والے علاقوں میں رات کے وقت ٹھنڈ میں کمی آئی ہے، جس کے باعث پگھلنے والا پانی زیادہ مقدار میں گلیشیائی جھیلوں میں جمع ہو رہا ہے جس کے سبب زیریں وادیوں میں گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
رواں سال فروری سے اپریل تک گلگت بلتستان، کشمیر میں معمول سے زیادہ درجۂ حرارت رہنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔