ایم کیو ایم کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنیوالے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ جس انداز میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اس پر وہ فی الحال اپنی رائے محفوظ رکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوئے ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے روبرو ایسی دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں جو گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کے خلاف غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے مقدمات بھی درج ہوئے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان مقدمات کا کیا انجام ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 19 فروری کو ای میل کے ذریعے تمام تفصیلات کمیشن کو ارسال کر دی گئی تھیں، مگر انہیں بتایا گیا کہ درخواست مطلوبہ تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کمیشن کم از کم ایک گھنٹہ ان کے وکیل اور آدھا گھنٹہ انہیں ذاتی طور پر سننے کے لیے مختص کرے۔
فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 برسوں سے صوبے میں بدعنوان حکمرانی جاری ہے اور ان کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بطور فریق اس معاملے میں شامل ہو سکتی ہے اور باقاعدہ درخواست بھی دی گئی، لیکن انہیں مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سانحے کی تحقیقات کا مطالبہ سب سے پہلے ان کی جماعت نے کیا تھا اور جلد اس موضوع پر تفصیلی پریس کانفرنس کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔