ایریزونا: ایک دہائی پرانا موبائل فون صحرا سے حیران کن طور پر کام کرتا ہوا ملا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست ایریزونا کے علاقے Prescott میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام عقل سے پرے ہے اور سوشل میڈیا پر بھی کافی دلچسپی کا باعث بنا ہے۔ 84 سالہ کیٹی الکین، جو اپنے گھر کے قریب صحرا میں چہل قدمی کر رہی تھیں، اچانک زمین پر ایک گرد آلود اور تقریباً دفن شدہ موبائل فون دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فون نہ صرف کھلا ہوا تھا بلکہ اس پر ریت کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔ ابتدا میں کیٹی نے سوچا کہ فون شاید پڑوسی لڑکے کے کام آئے گا جو الیکٹرانکس میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن جلد ہی ان کا تجسس بڑھ گیا کہ یہ موبائل ابھی بھی کام کر رہا ہے یا نہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اپنے گھر لے جانے کے بعد کیٹی نے پرانے چارجرز نکال کر فون کو چارج کرنے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر، فون نے چارج لینا شروع کر دیا اور کچھ دیر بعد مکمل طور پر آن ہو گیا۔ اس کے بعد کیٹی نے فون کے کانٹیکٹس اور پیغامات کا جائزہ لینا شروع کیا تاکہ اس کے اصل مالک کا پتہ لگایا جا سکے۔
عالمی میڈیا کے مطابق تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ فون کی مالک میڈی نامی ایک خاتون ہیں جو شکاگو میں رہائش پذیر ہیں اور ایک کیفے میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ہائیکنگ کی بھی شوقین ہیں، کیٹی نے میڈی کے والد کے نمبر پر رابطہ کیا اور کچھ دنوں کی کوشش کے بعد میڈی سے بات کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈی کے لیے یہ خبر واقعی حیران کن تھی کہ اس کا فون، جو 2015 میں ایک ہائیکنگ کے دوران صحرا میں گم ہو گیا تھا، 10 سال بعد بھی مکمل طور پر قابل استعمال حالت میں واپس آ گیا۔ صحرا کے سخت موسم اور درجہ حرارت کی شدت کے باوجود فون خراب نہ ہوا بلکہ آج بھی اسی طرح کام کر رہا تھا۔
یہ واقعہ ٹیکنالوجی کے استقامت اور قسمت کی عجیب و غریب کہانی کی عکاسی کرتا ہے، جس نے نہ صرف فون کی مالک بلکہ دیکھنے والوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق کیٹی نے کام کر
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔