رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ واشنگٹن عراق میں ایسی قیادت کا خواہاں ہے جو شام میں احمد الشرع کی قیادت میں ابھرنے والی نئی علاقائی صورتِ حال کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق میں آئندہ وزیرِاعظم کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ بعض عراقی ذرائع نے ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے رکھا ہے کہ شام میں موجودہ حکمران دھڑے کے سربراہ ابو محمد الجولانی (احمد الشرع) نے نوری المالکی کی امیدواری کی مخالفت کے سلسلے میں امریکی مؤقف پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عراقی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان میں انہوں نے المالکی کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی کی مخالفت کی تھی اس کے پس منظر میں احمد الشرع کا کردار ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
عراقی ٹی وی چینل السومریہ نے بھی اپنی رپورٹ میں بعض سیاسی حلقوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام کے پیچھے شام کی موجودہ قیادت کا ممکنہ اثر موجود ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ واشنگٹن عراق میں ایسی قیادت کا خواہاں ہے جو شام میں احمد الشرع کی قیادت میں ابھرنے والی نئی علاقائی صورتِ حال کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکے۔ اسی سلسلے میں عراقی سیاسی رہنما بہاء الاعرجی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایک عراقی سیاسی شخصیت حال ہی میں شام گئی تاکہ احمد الشرع سے نوری المالکی کی حمایت میں سفارش کی جا سکے۔ الاعرجی کے مطابق کردستان ریجن کی ایک اہم شخصیت بھی ابوظہبی روانہ ہوئی ہے تاکہ المالکی کی امیدواری کی مخالفت سے متعلق جاری تنازع پر ثالثی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اگرچہ ان تمام دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی، تاہم یہ قیاس آرائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عراق میں وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل محض داخلی سیاسی معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس کے گرد علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ اور بین الاقوامی صف بندیوں کی بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ عراق کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بغداد کی اقتدار کی سیاست اکثر علاقائی اور عالمی مفادات کے توازن سے جڑی رہی ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں بھی یہی سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا وزیرِاعظم کا انتخاب خالصتاً داخلی سیاسی مفاہمت کا نتیجہ ہوگا یا پھر علاقائی حرکیات اس میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: احمد الشرع المالکی کی رپورٹ میں

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم