صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس یو سی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بنیادی، دستوری، شہری حقوق سلب کئے بلکہ ہماری اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے، سال ہا سال کی قانونی جدوجہد کے باوجود عرصہ دراز سے پابندی جاری ہے جس کا اب ختم ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام الناس کے اعتماد کی بحالی، آئین و قانون کی عملداری، بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا تاثر قائم ہو سکے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی جس کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، ہمارا کبھی بھی دہشتگردی، فرقہ پرستی و شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں رہا، ہم خود عرصہ دراز سے دہشتگردی کا شکار ہیں، ہم نے پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کی بنیاد رکھی اور ہمیشہ اتحاد و وحدت اُمت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، سانحہ ترلائی اسلام آباد مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کی شفاف تحقیقات کر اکر تمام کر داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اس وقت فتنہ الہند، فتنہ الخوارج وغیرہ وغیرہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے چرچے ہیں اور ماضی کی طرح لسٹیں بھی شائع کی جا رہی ہیں جس میں بدقسمتی سے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت ہمارا نام بھی شامل ہے، مدتوں سے ملک میں جاری انتہا پسندی، تکفیر، شدت پسندی اور کشت و کشتار جاری رہا جس کے نتیجے میں مختلف طبقات سے سینکڑوں شہدا و زخمی ہوئے اور ہزاروں متاثرین، پسماندگان اور لواحقین ہیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کیے رکھی، عارضی وقفے کو امن کا نام دیا جاتا رہا ہے، ان تمام تر واقعات، مشکلات و نامساعد حالات کے باوجود ہم نے ہمیشہ وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، درجنوں شہدا کے جنازوں پر کھڑے ہوکر بین المسالک ہم آہنگی، امن و امان اور قانون کی بالادستی کی بات کی، ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھنے اور موثر و فعال انداز میں چلانے میں وہ کردار ادا کیا جو بظاہر ناممکن تھا، طوائف الملوکی کے اس نازک دور میں اعلامیہ ہائے وحدت اور ضابطہ ہائے اخلاق پر نہ صرف دستخط کئے بلکہ عمل کیا اور کرایا، جس سے اتحاد و وحدت، برداشت و رواداری کو فروغ ملا، تکفیر اور انارکی کی نفی ہوئی، اتحاد بین المسلمین کو تقویت ملی اور مسالک کے درمیان روابط و میل جول سے ملکی و مسلکی فضا بہتر و خوشگوار ہوئی، اتحاد و وحدت کے وہ روح پرور مناظر منظم انداز میں پیش کیی جن سے 57 اسلامی ممالک میں ایک مثال قائم ہوئی۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کی کوششوں، تمام مکاتب فکر و مسالک کے قائدین و اکابرین سمیت نچلی سطح تک حتی کہ مدارس و مراکز سے دوستانہ روابط اور ایک دوسرے کے باہمی احترام وتعلقات، برداشت و یکجہتی کے روشن موقف اور کردار کے باوجود بیلنس کی غیر منصفانہ، غیر آئینی و غیر قانونی پالیسی کے تحت ہمیں انتہاپسندوں، فرقہ پرست تکفیریوں اور اب فتنوں و مسلح جتھوں کے ساتھ نتھی کردیا گیا ہے، کالعدم کی لسٹ میں شامل کرکے نہ صرف ہمارے بنیادی، دستوری، شہری حقوق سلب کئے بلکہ ہماری اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے، سال ہا سال کی قانونی جدوجہد کے باوجود عرصہ دراز سے پابندی جاری ہے جس کا اب ختم ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام الناس کے اعتماد کی بحالی، آئین و قانون کی عملداری، بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا تاثر قائم ہو سکے۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم آپ کے ذریعے ارباب اقتدار سے اپنے خلاف ہونے والے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت غیر آئینی و غیرقانونی اقدامات کے ازالے کا تقاضا کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اتحاد بین المسلمین علامہ ساجد نقوی پالیسی کے تحت نقوی نے کہا کے باوجود

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف