تحریک جعفریہ پر پابندی ظالمانہ بیلنس کے تحت لگائی گئی، اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے، علامہ ساجد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس یو سی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بنیادی، دستوری، شہری حقوق سلب کئے بلکہ ہماری اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے، سال ہا سال کی قانونی جدوجہد کے باوجود عرصہ دراز سے پابندی جاری ہے جس کا اب ختم ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام الناس کے اعتماد کی بحالی، آئین و قانون کی عملداری، بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا تاثر قائم ہو سکے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی جس کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، ہمارا کبھی بھی دہشتگردی، فرقہ پرستی و شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں رہا، ہم خود عرصہ دراز سے دہشتگردی کا شکار ہیں، ہم نے پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کی بنیاد رکھی اور ہمیشہ اتحاد و وحدت اُمت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، سانحہ ترلائی اسلام آباد مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کی شفاف تحقیقات کر اکر تمام کر داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اس وقت فتنہ الہند، فتنہ الخوارج وغیرہ وغیرہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے چرچے ہیں اور ماضی کی طرح لسٹیں بھی شائع کی جا رہی ہیں جس میں بدقسمتی سے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت ہمارا نام بھی شامل ہے، مدتوں سے ملک میں جاری انتہا پسندی، تکفیر، شدت پسندی اور کشت و کشتار جاری رہا جس کے نتیجے میں مختلف طبقات سے سینکڑوں شہدا و زخمی ہوئے اور ہزاروں متاثرین، پسماندگان اور لواحقین ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کیے رکھی، عارضی وقفے کو امن کا نام دیا جاتا رہا ہے، ان تمام تر واقعات، مشکلات و نامساعد حالات کے باوجود ہم نے ہمیشہ وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، درجنوں شہدا کے جنازوں پر کھڑے ہوکر بین المسالک ہم آہنگی، امن و امان اور قانون کی بالادستی کی بات کی، ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھنے اور موثر و فعال انداز میں چلانے میں وہ کردار ادا کیا جو بظاہر ناممکن تھا، طوائف الملوکی کے اس نازک دور میں اعلامیہ ہائے وحدت اور ضابطہ ہائے اخلاق پر نہ صرف دستخط کئے بلکہ عمل کیا اور کرایا، جس سے اتحاد و وحدت، برداشت و رواداری کو فروغ ملا، تکفیر اور انارکی کی نفی ہوئی، اتحاد بین المسلمین کو تقویت ملی اور مسالک کے درمیان روابط و میل جول سے ملکی و مسلکی فضا بہتر و خوشگوار ہوئی، اتحاد و وحدت کے وہ روح پرور مناظر منظم انداز میں پیش کیی جن سے 57 اسلامی ممالک میں ایک مثال قائم ہوئی۔
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کی کوششوں، تمام مکاتب فکر و مسالک کے قائدین و اکابرین سمیت نچلی سطح تک حتی کہ مدارس و مراکز سے دوستانہ روابط اور ایک دوسرے کے باہمی احترام وتعلقات، برداشت و یکجہتی کے روشن موقف اور کردار کے باوجود بیلنس کی غیر منصفانہ، غیر آئینی و غیر قانونی پالیسی کے تحت ہمیں انتہاپسندوں، فرقہ پرست تکفیریوں اور اب فتنوں و مسلح جتھوں کے ساتھ نتھی کردیا گیا ہے، کالعدم کی لسٹ میں شامل کرکے نہ صرف ہمارے بنیادی، دستوری، شہری حقوق سلب کئے بلکہ ہماری اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے، سال ہا سال کی قانونی جدوجہد کے باوجود عرصہ دراز سے پابندی جاری ہے جس کا اب ختم ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام الناس کے اعتماد کی بحالی، آئین و قانون کی عملداری، بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا تاثر قائم ہو سکے۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم آپ کے ذریعے ارباب اقتدار سے اپنے خلاف ہونے والے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت غیر آئینی و غیرقانونی اقدامات کے ازالے کا تقاضا کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اتحاد بین المسلمین علامہ ساجد نقوی پالیسی کے تحت نقوی نے کہا کے باوجود
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔