پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع
ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت دفاع کی ننگرہار اور پکتیکا کے اشہری علاقوںمیں پاکستان کی جانب سے حملوں کی شدیدمذمت
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے سات ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 80 سے زائد خوارج مارے گئے۔عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ رات افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایٔراسٹرائیک کی گئی ہیں جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جب کہ 80 سے زائد خارجی مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جب ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جو سات ٹھکانے تباہ ہوئے ان میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر دو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔اُدھر افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افغان طالبان افراد ہلاک پاکستان کی
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :