Islam Times:
2026-06-02@20:48:26 GMT

علاقائی جنگ، یمن کا کردار (حصہ اوّل)

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

علاقائی جنگ، یمن کا کردار (حصہ اوّل)

اسلام ٹائمز: عسکری پہلو سے دیکھا جائے تو یمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اینٹی شپ کروز میزائلوں اور طویل فاصلے کے ڈرونز کے استعمال نے یہ دکھایا کہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے دفاعی نظام ناقابلِ نفوذ نہیں۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد لازماً بحری جہاز تباہ کرنا نہیں، بلکہ قیمت بڑھانا، دفاعی صلاحیت کو تھکانا، اور بحیرہ احمر و اطراف میں فوجی موجودگی کو زیادہ پرخطر بنانا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

اگر امریکہ یا اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کرتے ہیں تو یمن محض ایک بالواسطہ دباؤ کا آلہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسا فریق سمجھا جائے گا جو براہِ راست میدان میں اترنے کی تیاری رکھتا ہے۔ ایک دہائی سے زائد جنگ نے یمن کو ایسی صلاحیت دی ہے کہ وہ غیر متوازن حربی طریقوں، بحری کارروائیوں اور میزائل و ڈرون حملوں کو بیک وقت یکجا کر کے استعمال کر سکتا ہے، یہی امتزاج روایتی ریاستی طاقتوں کے لیے مہنگا اور تھکا دینے والا ثابت ہوتا ہے۔ ذیل میں چند نکات پیش ہیں۔   1۔ عسکری پہلو سے دیکھا جائے تو یمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اینٹی شپ کروز میزائلوں اور طویل فاصلے کے ڈرونز کے استعمال نے یہ دکھایا کہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے دفاعی نظام ناقابلِ نفوذ نہیں۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد لازماً بحری جہاز تباہ کرنا نہیں، بلکہ قیمت بڑھانا، دفاعی صلاحیت کو تھکانا، اور بحیرہ احمر و اطراف میں فوجی موجودگی کو زیادہ پرخطر بنانا ہے۔   2۔ یمن کا اسٹریٹجک ’’ٹرَمپ کارڈ‘‘ باب المندب پر عملی گرفت ہے، یہ ایک ایسا گلا گھونٹنے والا راستہ (چوک پوائنٹ) ہے جو عالمی تجارت کی اہم شاہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ یمن مکمل بندش کے بجائے اس گزرگاہ کو غیر محفوظ اور مہنگا بنا کر دباؤ بڑھاتا ہے۔   3۔ یہ دباؤ صرف مغرب تک محدود نہیں رہتا۔ آرامکو تنصیبات پر حملوں کے تجربے سے ظاہر ہوا کہ سعودی عرب کی تیل پیداوار یا برآمدات میں معمولی خلل بھی عالمی توانائی منڈی میں جھٹکا پیدا کر سکتا ہے، اور ریاض کو ایک علاقائی مداخلت کار سے زیادہ اپنی داخلی سلامتی میں الجھا ہوا فریق بنا سکتا ہے۔   4۔ متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی یمن ماضی میں دکھا چکا ہے کہ وہ اس کی اسٹریٹجک گہرائی کو غیر محفوظ کر سکتا ہے۔ امارات پر ڈرون حملوں نے محض جسمانی نقصان نہیں کیا بلکہ اس کے ’’استحکام اور معاشی سلامتی‘‘ کے تاثر کو بھی متاثر کیا، وہ تاثر جو بیرونی سرمایہ کاری، تجارت اور لاجسٹکس پر قائم ہے۔   5۔ سیاسی و عسکری زاویے سے یمن روایتی بازدارندگی کے فریم میں نہیں آتا۔ یہ نہ کوئی ایسی تابعدار ریاست ہے جس کے چند واضح ’’اہم مراکز‘‘ ہوں اور نہ اس کے پاس ایسے مستقل بیرونی اڈے ہیں جنہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یمن کے خلاف دباؤ میں اضافہ اکثر تنازعے کو پھیلا دیتا ہے اور امریکہ کو سعودی عرب و امارات کے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید عسکری و سیاسی وسائل جھونکنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے جنگ کی مجموعی لاگت تیزی سے بڑھتی ہے۔   6۔ یہاں فیصلہ کن نکتہ یمن اور ایران کے تعلق کی نوعیت ہے۔ اس تجزیے کے مطابق یمن محض ایک غیر فعال نیابتی قوت نہیں بلکہ ایک نظریاتی طور پر ہم سمت فریق ہے، جو ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کو عملی سطح پر دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی خصوصیت یمن کو بیک وقت اور نسبتاً خودمختار انداز میں میدان میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہے، اور امریکہ و اتحادیوں کی حساب کتاب کو پیچیدہ کرتی ہے۔   7۔ اسی بنیاد پر، ممکنہ جنگ میں یمن کا کردار بتدریج اور تھکا دینے والا ہوگا۔ بحری، میزائل اور ڈرون کارروائیوں میں مرحلہ وار شدت؛ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور امارات سے جڑے اہداف کا دائرہ وسیع کرنا؛ اور دشمن کو خطے کے جنوبی حصے میں مسلسل مصروف رکھنا۔ یمن کا کام ’’فیصلہ کن آخری ضرب‘‘ لگانا نہیں، لیکن وہ جنگ کی ساخت کو مہنگا، طویل اور غیر مستحکم بنا سکتا ہے اور یہی کردار تہران کے زیرِ بحث ’’علاقائی جنگ‘‘ کے تصور سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ اور اس کے رکھتا ہے کے خلاف سکتا ہے یمن کا

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟