Islam Times:
2026-07-24@02:10:01 GMT

علاقائی جنگ، یمن کا کردار (حصہ اوّل)

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

علاقائی جنگ، یمن کا کردار (حصہ اوّل)

اسلام ٹائمز: عسکری پہلو سے دیکھا جائے تو یمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اینٹی شپ کروز میزائلوں اور طویل فاصلے کے ڈرونز کے استعمال نے یہ دکھایا کہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے دفاعی نظام ناقابلِ نفوذ نہیں۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد لازماً بحری جہاز تباہ کرنا نہیں، بلکہ قیمت بڑھانا، دفاعی صلاحیت کو تھکانا، اور بحیرہ احمر و اطراف میں فوجی موجودگی کو زیادہ پرخطر بنانا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

اگر امریکہ یا اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کرتے ہیں تو یمن محض ایک بالواسطہ دباؤ کا آلہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسا فریق سمجھا جائے گا جو براہِ راست میدان میں اترنے کی تیاری رکھتا ہے۔ ایک دہائی سے زائد جنگ نے یمن کو ایسی صلاحیت دی ہے کہ وہ غیر متوازن حربی طریقوں، بحری کارروائیوں اور میزائل و ڈرون حملوں کو بیک وقت یکجا کر کے استعمال کر سکتا ہے، یہی امتزاج روایتی ریاستی طاقتوں کے لیے مہنگا اور تھکا دینے والا ثابت ہوتا ہے۔ ذیل میں چند نکات پیش ہیں۔   1۔ عسکری پہلو سے دیکھا جائے تو یمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اینٹی شپ کروز میزائلوں اور طویل فاصلے کے ڈرونز کے استعمال نے یہ دکھایا کہ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے دفاعی نظام ناقابلِ نفوذ نہیں۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد لازماً بحری جہاز تباہ کرنا نہیں، بلکہ قیمت بڑھانا، دفاعی صلاحیت کو تھکانا، اور بحیرہ احمر و اطراف میں فوجی موجودگی کو زیادہ پرخطر بنانا ہے۔   2۔ یمن کا اسٹریٹجک ’’ٹرَمپ کارڈ‘‘ باب المندب پر عملی گرفت ہے، یہ ایک ایسا گلا گھونٹنے والا راستہ (چوک پوائنٹ) ہے جو عالمی تجارت کی اہم شاہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ یمن مکمل بندش کے بجائے اس گزرگاہ کو غیر محفوظ اور مہنگا بنا کر دباؤ بڑھاتا ہے۔   3۔ یہ دباؤ صرف مغرب تک محدود نہیں رہتا۔ آرامکو تنصیبات پر حملوں کے تجربے سے ظاہر ہوا کہ سعودی عرب کی تیل پیداوار یا برآمدات میں معمولی خلل بھی عالمی توانائی منڈی میں جھٹکا پیدا کر سکتا ہے، اور ریاض کو ایک علاقائی مداخلت کار سے زیادہ اپنی داخلی سلامتی میں الجھا ہوا فریق بنا سکتا ہے۔   4۔ متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی یمن ماضی میں دکھا چکا ہے کہ وہ اس کی اسٹریٹجک گہرائی کو غیر محفوظ کر سکتا ہے۔ امارات پر ڈرون حملوں نے محض جسمانی نقصان نہیں کیا بلکہ اس کے ’’استحکام اور معاشی سلامتی‘‘ کے تاثر کو بھی متاثر کیا، وہ تاثر جو بیرونی سرمایہ کاری، تجارت اور لاجسٹکس پر قائم ہے۔   5۔ سیاسی و عسکری زاویے سے یمن روایتی بازدارندگی کے فریم میں نہیں آتا۔ یہ نہ کوئی ایسی تابعدار ریاست ہے جس کے چند واضح ’’اہم مراکز‘‘ ہوں اور نہ اس کے پاس ایسے مستقل بیرونی اڈے ہیں جنہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یمن کے خلاف دباؤ میں اضافہ اکثر تنازعے کو پھیلا دیتا ہے اور امریکہ کو سعودی عرب و امارات کے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید عسکری و سیاسی وسائل جھونکنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے جنگ کی مجموعی لاگت تیزی سے بڑھتی ہے۔   6۔ یہاں فیصلہ کن نکتہ یمن اور ایران کے تعلق کی نوعیت ہے۔ اس تجزیے کے مطابق یمن محض ایک غیر فعال نیابتی قوت نہیں بلکہ ایک نظریاتی طور پر ہم سمت فریق ہے، جو ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کو عملی سطح پر دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی خصوصیت یمن کو بیک وقت اور نسبتاً خودمختار انداز میں میدان میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہے، اور امریکہ و اتحادیوں کی حساب کتاب کو پیچیدہ کرتی ہے۔   7۔ اسی بنیاد پر، ممکنہ جنگ میں یمن کا کردار بتدریج اور تھکا دینے والا ہوگا۔ بحری، میزائل اور ڈرون کارروائیوں میں مرحلہ وار شدت؛ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور امارات سے جڑے اہداف کا دائرہ وسیع کرنا؛ اور دشمن کو خطے کے جنوبی حصے میں مسلسل مصروف رکھنا۔ یمن کا کام ’’فیصلہ کن آخری ضرب‘‘ لگانا نہیں، لیکن وہ جنگ کی ساخت کو مہنگا، طویل اور غیر مستحکم بنا سکتا ہے اور یہی کردار تہران کے زیرِ بحث ’’علاقائی جنگ‘‘ کے تصور سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ اور اس کے رکھتا ہے کے خلاف سکتا ہے یمن کا

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف