ڈھاکہ: بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے نو منتخب رکنِ پارلیمنٹ میر احمد بن قاسم ارمان نے مالی بحران سے دوچار موبائل فنانشل سروس فراہم کرنے والے ادارے ناگَد میں نئی سرمایہ کاری لانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس وقت یہ ادارہ بنگلہ دیش بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے جبکہ اس کی مالی حیثیت اور انتظامی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ چکے ہیں۔

میر احمد بن قاسم ارمان، جو جماعتِ اسلامی کے شہید رہنما میر قاسم علی کے صاحبزادے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے 8 فروری کو، عام انتخابات سے محض تین روز قبل، بنگلہ دیش بینک کے گورنر کو باضابطہ خط ارسال کیا تھا، جس میں ناگَد کے مالی معاملات کا جامع فرانزک آڈٹ کرانے کی اجازت طلب کی گئی، کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری سے قبل ادارے کی اصل مالی صورتحال جاننا ناگزیر ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو درست اور شفاف تصویر فراہم کی جا سکے۔

میر احمد بن قاسم ارمان کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی اور اداروں کو سہارا دینا ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے، وہ اس وقت ملکی اور غیر ملکی ملٹی نیشنل سرمایہ کار اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے لیے مقامی کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار ناگَد میں سرمایہ لگانے سے قبل مکمل فرانزک آڈٹ پر زور دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی یا قانونی خطرے سے بچا جا سکے۔

انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے تلخ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں وہ تقریباً آٹھ برس تک جبری گمشدگی کا شکار رہے، انہیں 2016 میں ڈھاکہ کے علاقے میرپور سے حراست میں لیا گیا تھا اور طویل عرصے تک بدنامِ زمانہ خفیہ حراستی مرکز “عین الغار” میں رکھا گیا۔ وہ 6 اگست 2024 کو شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے ایک روز بعد رہا ہوئے۔ ارمان برطانیہ سے تربیت یافتہ وکیل بھی ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور کا کہنا ہے کہ ناگَد کے حوالے سے مرکزی بینک کو مختلف حلقوں کی جانب سے متعدد تجاویز موصول ہو چکی ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی منصوبے کو عملی مرحلے تک نہیں پہنچایا گیا، عبوری حکومت کا ارادہ تھا کہ ناگَد کو دوبارہ نجی شعبے کے حوالے کیا جائے، لیکن موجودہ صورتحال میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ نئی حکومت ہی کرے گی۔

یاد رہے کہ ناگَد نے 2019 میں بنگلہ دیش پوسٹ آفس کے مالیاتی ادارے کے طور پر اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا اور تاحال مرکزی بینک کے عارضی لائسنس کے تحت کام کر رہا ہے۔ اگست 2024 میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کے الزامات سامنے آنے پر بنگلہ دیش بینک نے ادارے میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا تھا۔

مرکزی بینک کی جانب سے کرائے گئے فرانزک آڈٹ اور بعد ازاں اینٹی کرپشن کمیشن کی تحقیقات میں سابقہ انتظامیہ کے دور میں تقریباً 2 ہزار 300 کروڑ ٹکا کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ابتدائی شواہد سامنے آئے، جس نے اس ادارے کے مستقبل پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگر شفاف طریقے سے سرمایہ کاری اور اصلاحاتی عمل آگے بڑھایا گیا تو ناگَد ایک بار پھر بنگلہ دیش کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بنگلہ دیش بینک سرمایہ کاری

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر