data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جگر کی صحت مجموعی جسمانی فٹنس اور توانائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ عضو جسم میں غذائی اجزاء کو میٹابولائز کرنے، زہریلے مواد کو فلٹر کرنے اور توانائی کی پیداوار میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر جگر متاثر ہو جائے تو نہ صرف اس سے متعلقہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ میٹابولک ڈس آرڈرز جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق جگر کے امراض سے بچاؤ کے لیے غذائی عادات اور روزمرہ کے مشروبات پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر چینی اور زیادہ میٹھے کھانوں کا بے جا استعمال جگر کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ جگر شوگر کو چربی میں تبدیل کرتا ہے اور جب یہ عمل زیادہ ہو جائے تو جگر کے اردگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے جگر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح میٹھے مشروبات، جن میں سافٹ ڈرنکس اور جوسز شامل ہیں، بھی جگر پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

زیادہ چکنائی والی غذائیں جگر کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ فاسٹ فوڈ، سرخ گوشت اور دیگر چکنائی سے بھرپور خوراک جگر کے افعال پر منفی اثر ڈالتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں ورم اور چربی کے ذخائر پیدا کرتی ہے۔ نمکین غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی جگر کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ جسمانی وزن بڑھانے اور جگر کے اردگرد چربی جمع ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

دیگر غذائیں جیسے سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول، جو زیادہ پراسیس کی جاتی ہیں، میں فائبر کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے۔ فائبر کی کمی بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب بنتی ہے، جو جگر پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے اور اس کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

مجموعی طور پر، جگر کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چینی، میٹھے مشروبات، زیادہ چکنائی، نمکین غذائیں، فاسٹ فوڈ اور پراسیس شدہ سفید کاربوہائیڈریٹس کے استعمال میں اعتدال اختیار کیا جائے۔ اس کے بجائے متوازن غذائی عادات، تازہ سبزیاں، پھل، اور کم چکنائی والی پروٹین کے استعمال سے جگر کے افعال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اس کی بیماریوں سے حفاظت ممکن ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے ہے اور جگر کی کی صحت جگر کے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟