لیپ ٹاپ گود میں رکھنے کی عادت، صحت اور تولیدی صلاحیت کے لیے ممکنہ خطرات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکثر لوگ لیپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر طویل وقت تک استعمال کرتے ہیں، مگر سائنس دان اس عادت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں متنبہ کر چکے ہیں۔ اگرچہ لفظ “لیپ” ہی گود کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس ڈیوائس کو گود میں رکھنے سے نہ صرف جسم میں حرارت جمع ہوتی ہے بلکہ لیپ ٹاپ خود بھی بہت زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جس سے جسمانی اور تولیدی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لیپ ٹاپ سے خارج ہونے والی حرارت عام ہوا کے بہاؤ میں رکاوٹ کی وجہ سے جسم میں اکٹھی ہو جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اکثر کمپنیاں صارفین کو سخت اور سطحی جگہ پر ڈیوائس استعمال کرنے کی ہدایت کرتی ہیں، تاکہ حرارت مناسب طریقے سے منتشر ہو اور ڈیوائس کی کارکردگی بھی بہتر رہے۔
2016 میں جرنل آف بائیو میڈیکل فزکس اینڈ انجینئرنگ میں شائع تحقیق میں واضح کیا گیا کہ لیپ ٹاپ کو گود میں رکھنے سے مردوں کی تولیدی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور طویل استعمال کے نتیجے میں بانجھ پن کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ہر صارف پر لاگو نہیں ہوتا، لیکن امکان موجود ہے، خاص طور پر جب ڈیوائس زیادہ گرم ہو جائے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیپ ٹاپ اور دیگر برقی آلات کم فریکوئنسی والی ریڈی ایشن خارج کرتے ہیں، جو لمبے عرصے تک جسم کے قریب رکھنے پر تولیدی افعال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم، حرارت کا اثر ریڈی ایشن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ لیپ ٹاپ کی زیادہ حرارت جلد کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، اور اگر بار بار جلد پر ڈیوائس رکھ کر کام کیا جائے تو جِلد کے رنگ اور ساخت میں تبدیلی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ استعمال کرنے والوں کے لیے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ ڈیوائس کو سخت، مستحکم اور ہموار سطح پر رکھا جائے تاکہ حرارت مناسب طریقے سے خارج ہو، اور جسم یا جِلد پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔ اس کے علاوہ، وقفے وقفے سے ڈیوائس کو ٹھنڈا کرنا اور گود میں رکھ کر طویل مدت تک استعمال سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ تحقیق اور انتباہ صارفین کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں سہولت کے ساتھ ساتھ صحت کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔