پشاور ہائیکورٹ کی افغان شوہر کی شہریت کیلئے دوبارہ درخواست دینے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی خاتون کے افغان شوہر کی شہریت اور پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) سے متعلق درخواست پر 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس انعام اللہ خان نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا اور درخواست گزار کو پی او سی کےلیے فریش اپلائی کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے نادرا اور سیکریٹری داخلہ حکام کو 6 ماہ میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس دوران درخواست گزاروں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔
درخواست گزار خاتون کے مطابق وہ پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے افغان شہری سے شادی کی، انہوں نے پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1952 کے سیکشن 10(2) کے تحت پاکستانی کارڈ کے لیے درخواست دی تاہم متعلقہ فریقین نے سٹیزن شپ اور پی او سی کی درخواست مسترد کر دی اور فارم ایچ جاری کرنے سے بھی انکار کیا، جو پی او سی کے لیے لازمی ہوتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات منسلک نہیں تھیں لہٰذا درخواست گزار پی او سی کے لیے دوبارہ درخواست دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ نادرا درخواست کو نادرا آرڈیننس 2002ء کے سیکشن 11 اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی رولز 2002ء کے رول 4 اور 5 کے مطابق دیکھے اور اگر کسی کمی کی بنیاد پر درخواست مسترد کی جائے تو درخواست گزار کو فوری اور تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کے شوہر نیچرلائزیشن ایکٹ 1962ء کے سیکشن 5 کے تحت نیچرلائزیشن کے لیے درخواست دیں، سیکرٹری داخلہ اور نادرا 6 ماہ کے اندر کیس پر فیصلہ کریں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ بچوں کی رجسٹریشن کے لیے متعلقہ نادرا رجسٹریشن سینٹرز سے رجوع کیا جائے اور نادرا قانون کے مطابق کارروائی کرے، عدالت نے حکم دیا کہ 6 ماہ تک درخواست گزاروں کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: درخواست گزار عدالت نے کے مطابق پی او سی کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔