WE News:
2026-06-02@20:42:15 GMT

کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ، 3 شہید، 6 زخمی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ، 3 شہید، 6 زخمی

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں دہشتگردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے فیڈرل کانسٹیبلری اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ سے 3 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

ریسکیو اور پولیس نے دہشتگردوں کے حملے اور فائرنگ کی تصدیق کی اور بتایا کہ زخمیوں میں ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں۔

ضلع کرک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سعود خان نے بتایا کہ کرک کے باڑہ در خیل علاقے میں ایف سی کی ایک چوکی پر ڈرون سے دہشتگردوں نے حملہ کیا جس میں ایف سی کے 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ انہیں لے جانے والی ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا اور معلوم ہوا کہ دہشتگردوں نے 2 ایمبولینسوں پر فائرنگ کر دی۔

ریسکیو 1122 کے ضلعی میڈیا کوورڈینیٹر محمد آصف نے بتایا کہ جب نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی تو دو ایمبولینسوں میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے پانچ زخمی اہلکاروں کو منتقل کیا جا رہا تھا۔

‘۔3 ایف سی اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ 2امدادی کارکنوں سمیت 6 دیگر زخمی ہو گئے’

آصف نے مزید کہا کہ گاڑیوں میں 7 ایف سی اہلکار شامل تھے، جن میں سے دو سیکیورٹی کے لیے تعینات تھے، اور 4 امدادی کارکن تھے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی حملے کے بعد، دو امدادی کارکن بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ باقی پھنس گئے۔ حملہ آوروں نے شدید فائرنگ کے بعد ایک ایمبولینس کو آگ لگا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو شدید جلنے کے زخم آئے ہیں۔

مزید پڑھیے: رمضان میں عوام کو ریلیف کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سخت احکامات، ذخیرہ اندوزی روکنے کی ہدایت

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے کچھ کو بنوں کے خلیفہ گل نواز اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردوں کی جانب سے سکیورٹی اداروں کو ڈرون سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ پر طالبات کو اپنے دفتر میں بلانے پر پابندی

بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف سی دہشتگرد حملہ شہید کرک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف سی دہشتگرد حملہ شہید کہ زخمیوں بتایا کہ زخمی ہو کے بعد ایف سی ہو گئے

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے