کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ، 3 شہید، 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں دہشتگردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے فیڈرل کانسٹیبلری اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ سے 3 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں
ریسکیو اور پولیس نے دہشتگردوں کے حملے اور فائرنگ کی تصدیق کی اور بتایا کہ زخمیوں میں ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں۔
ضلع کرک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سعود خان نے بتایا کہ کرک کے باڑہ در خیل علاقے میں ایف سی کی ایک چوکی پر ڈرون سے دہشتگردوں نے حملہ کیا جس میں ایف سی کے 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ انہیں لے جانے والی ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا اور معلوم ہوا کہ دہشتگردوں نے 2 ایمبولینسوں پر فائرنگ کر دی۔
ریسکیو 1122 کے ضلعی میڈیا کوورڈینیٹر محمد آصف نے بتایا کہ جب نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی تو دو ایمبولینسوں میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے پانچ زخمی اہلکاروں کو منتقل کیا جا رہا تھا۔
‘۔3 ایف سی اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ 2امدادی کارکنوں سمیت 6 دیگر زخمی ہو گئے’
آصف نے مزید کہا کہ گاڑیوں میں 7 ایف سی اہلکار شامل تھے، جن میں سے دو سیکیورٹی کے لیے تعینات تھے، اور 4 امدادی کارکن تھے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی حملے کے بعد، دو امدادی کارکن بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ باقی پھنس گئے۔ حملہ آوروں نے شدید فائرنگ کے بعد ایک ایمبولینس کو آگ لگا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو شدید جلنے کے زخم آئے ہیں۔
مزید پڑھیے: رمضان میں عوام کو ریلیف کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سخت احکامات، ذخیرہ اندوزی روکنے کی ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے کچھ کو بنوں کے خلیفہ گل نواز اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردوں کی جانب سے سکیورٹی اداروں کو ڈرون سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ پر طالبات کو اپنے دفتر میں بلانے پر پابندی
بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف سی دہشتگرد حملہ شہید کرک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف سی دہشتگرد حملہ شہید کہ زخمیوں بتایا کہ زخمی ہو کے بعد ایف سی ہو گئے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :