ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی، ٹرمپ کا مبینہ پلان بی حکومت کی تبدیلی پر مبنی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں امریکا کی ایران سے متعلق پالیسی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مبینہ متبادل حکمت عملی یعنی پلان بی پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد موجودہ ایرانی حکومت کو تبدیل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر محدود حملوں پر مشتمل ابتدائی حکمت عملی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی تو واشنگٹن انتظامیہ ایک وسیع فوجی مہم شروع کر سکتی ہے، اس ممکنہ کارروائی کا ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کا کردار اور موجودہ سیاسی نظام کو ختم کرنا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ابتدائی پلان اے کے تحت امریکا محدود نوعیت کے حملوں کے ذریعے تہران پر دباؤ ڈال کر اسے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے، اگر ایران نے سخت مؤقف برقرار رکھا تو سال کے آخر تک زیادہ وسیع پیمانے کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے، ممکنہ ابتدائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے مراکز، فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، بیلسٹک میزائل تنصیبات اور حساس جوہری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں اور امریکا و ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جنیوا میں متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔