پنجگور میں بائیک سواروں کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ پنجگور شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر دور پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کردی اور فرار ہوگئے، جاں بحق افراد میں سے دو افراد کی شناخت داود ولد عوض جان اور سلیم ولد حاجی فیض محمد کے نام سے ہوئی جو سرحدی گاؤں نکر کے رہائشی تھے بقیہ چار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں قریبی اسپتال منتقل کردی گئیں جہاں طبی عملے نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
پولیس نے بتایا کہ حملے کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہوسکی تاہم علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
ضلع پنجگور کے اسسٹنٹ کمشنر امیر جان نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ سرحدی نوعیت کا ہے جہاں اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے لیکن مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ کے جاری کی جائے گی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور انہوں نے اچانک فائرنگ شروع کی جس سے 6 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ حملے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں پناہ لی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی ٹیمیں تقریباً ایک گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پنجگور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گولیوں لگنے سے ہوئیں۔
واضح رہے کہ چیدگی دستک کا علاقہ پنجگور کے شمال مغرب میں واقع ہے جو ایران کی سرحد کے قریب ہے، یہاں اکثر اسمگلنگ اور دیگر سرحدی مسائل کی وجہ سے کشیدگی رہتی ہے۔
بلوچستان میں اس طرح کے حملے اکثر بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، جو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں پنجگور ضلع حال ہی میں متعدد چھوٹے بڑے واقعات کا شکار رہا ہے، جن میں آئی ای ڈی دھماکے اور فائرنگ شامل ہیں۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے نہ صرف عوام کو نشانہ بنایا بلکہ گاڑیوں کو آگ لگانے سے یہ واضح ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا پولیس حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملہ آوروں افراد کی
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :