امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، اور اگر اس کے باوجود ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو آئندہ مہینوں میں ایک وسیع حملے کا امکان بھی موجود ہے، دوسری جانب ایران نے سرینڈر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں یا ابتدائی محدود کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکے تو وہ ایک بڑے فوجی آپریشن پر غور کریں گے، جس کا ہدف ایرانی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کریں گے، ایران کا امریکا کو واضح پیغام

اخبار نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کریں گے، جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ابتدائی طور پر چند دنوں میں ایک محدود کارروائی کے حق میں ہیں، جس کا مقصد ایرانی قیادت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔

زیرِ غور اہداف میں پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اگر یہ اقدامات بھی ایران کو امریکی مطالبات پر آمادہ نہ کر سکیں تو صدر ٹرمپ رواں سال کے آخر میں ایک بڑے فوجی حملے کا امکان کھلا رکھیں گے، جس کا مقصد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو کمزور یا ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ تاہم انتظامیہ کے اندر اس بات پر شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا صرف فضائی حملوں سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اخبار کے مطابق پسِ پردہ دونوں فریق ایک متبادل تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران کو محدود سطح پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے، تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں میں سے کوئی فریق اس پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔

اسی دوران 2 امریکی طیارہ بردار بحری جہاز، درجنوں لڑاکا اور بمبار طیارے، اور ری فیولنگ ائیرکرافٹ ایران کے قریب تعینات کیے جا چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران سرینڈر کا مطلب نہیں جانتا، اور اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران اپنے حقِ دفاع کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور ردعمل دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر تہران کا جھکنے سے انکار ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوجی کارروائی وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم