پلان بی؛ ٹرمپ نے حملے میں ناکامی پر ایرانی حکومت گرانے کا منصوبہ بنالیا؛ رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلان اے یعنی ایران پر محدود حملے کی ناکامی کی صورت میں پلان بی پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پلان بی کے تحت ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر محدود حملوں کے باوجود ایران نے لچک نہ دکھائی تو ایک وسیع فوجی مہم شروع کی جا سکتی ہے۔
جس کا مقصد براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کردار اور ایران کی موجودہ حکومت و اعلیٰ ترین سیاسی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔
قبل ازیں پلان اے کے تحت صدر ٹرمپ نے معاہدہ کے لیے ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو رواں سال کے آخر میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کہیں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
نیویارک کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی حلقوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ ابتدائی حملہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ حملہ محدود نوعیت کا ہوگا جس میں ازیں پاسداران انقلاب کے مراکز، ایرانی فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بیلسٹک میزائل تنصیبات، یا جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جنیوا میں جمعرات کو متوقع ہے۔
تاہم اس سے قبل ہی امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجیوں کی موجودگی میں بھی تیزی سے اضافہ کر رہا ہے جسے ممکنہ حملے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔