امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلان اے یعنی ایران پر محدود حملے کی ناکامی کی صورت میں پلان بی پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پلان بی کے تحت ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر محدود حملوں کے باوجود ایران نے لچک نہ دکھائی تو ایک وسیع فوجی مہم شروع کی جا سکتی ہے۔

جس کا مقصد براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کردار اور ایران کی موجودہ حکومت و اعلیٰ ترین سیاسی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔

قبل ازیں پلان اے کے تحت صدر ٹرمپ نے معاہدہ کے لیے ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو رواں سال کے آخر میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کہیں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

نیویارک کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی حلقوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ ابتدائی حملہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ حملہ محدود نوعیت کا ہوگا جس میں ازیں پاسداران انقلاب کے مراکز، ایرانی فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بیلسٹک میزائل تنصیبات، یا جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جنیوا میں جمعرات کو متوقع ہے۔

تاہم اس سے قبل ہی امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجیوں کی موجودگی میں بھی تیزی سے اضافہ کر رہا ہے جسے ممکنہ حملے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار