کیا بڑھاپا دوبارہ جوانی میں بدلا جا سکتا ہے؟ ہارورڈ سائنسدان نے انقلابی پیش رفت کی پیش گوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ سنکلئر نے بڑھاپے کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھاپا ناگزیر نہیں بلکہ ایک قابل علاج طبی حالت ہے۔
2026 کے دبئی سمٹ میں ڈاکٹر سنکلئر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے جزوی ایپی جینیٹک پروگرامنگ کے ذریعے جانوروں میں بڑھاپے کے نشان 75 فیصد تک پلٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے لیے ترمیم شدہ یاماناکا جینز استعمال کیے گئے، جس سے نابینا جانوروں کی بینائی بھی بحال ہوئی۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے خلیوں کو دوبارہ نوجوان حالت میں لایا جا سکتا ہے، جس سے جسمانی افعال کی کارکردگی اور طاقت بحال ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں کی اہم پیشرفت، بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب
سنکلئر نے کہا، “سائنسدانوں نے جسمانی نظام کو ‘پالش’ کرنے اور خلیوں کی فعالیت بحال کرنے کے طریقے دریافت کر لیے ہیں۔ اس سے بڑھاپے کے اثرات کم ہو کر جسم دوبارہ جوان ہو سکتا ہے۔”
اب ٹیم انسانی کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کر رہی ہے تاکہ بڑھاپے کے پہلوؤں کو پلٹا جا سکے۔ یہ ٹرائلز ایپی جینیٹک پروگرامنگ تھراپیز کی جانچ کریں گے جو خلیوں کو نوجوان حالت میں واپس لانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
سنکلئر نے کہا،’ہم تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھیں گے کہ کیا ہم بڑھاپا پلٹا سکتے ہیں اور بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
انہوں نے اس تحقیق کے معاشی فوائد پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ امریکہ میں صحت مند زندگی کو صرف ایک سال بڑھانا تقریباً 38 ٹریلین ڈالر کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سنکلئر نے مزید کہا کہ بڑھاپے کی روک تھام اور اس کی پلٹائی معاشرے کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ انسانی پیداواریت ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنا معاشی اور سماجی دونوں اعتبار سے فائدہ مند ہے۔
کلینیکل ٹرائلز جلد شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم حتمی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی صحت بڑھاپا جوانی سائنسدان ہارورڈ یونیورسٹی\.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوانی ہارورڈ یونیورسٹی بڑھاپے کے سنکلئر نے سکتا ہے کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔