انٹرنیٹ کا وہ تاریک گوشہ جہاں خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے رسائی حاصل کی جاتی ہے اور مجرم اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں۔ اسی تاریکی میں ایک 12 سالہ بچی کی زندگی برسوں تک قید رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ماہر آن لائن تحقیق کار گریگ اسکوائر اور ان کی ٹیم ایک ایسی بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے انہوں نے فرضی نام ’لوسی‘ دیا تھا۔ اس کی دل دہلا دینے والی تصاویر ڈارک ویب پر شیئر ہو رہی تھیں۔

مجرم انتہائی محتاط تھا اور تصاویر کو اس طرح کاٹ کر پیش کیا جاتا کہ کوئی شناختی نشان باقی نہ رہے۔ نہ مقام کا اندازہ، نہ گھر کا پتہ، نہ خاندان کی کوئی جھلک۔ یہ کیس تقریباً ناممکن دکھائی دینے لگا تھا۔

معمولی تفصیلات، بڑی پیشرفت

تحقیقاتی ٹیم نے تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ کمرے کی روشنی کے سوئچ، برقی ساکٹس، بیڈ شیٹ، کھلونے ہر چیز کو غور سے دیکھا گیا۔ اندازہ ہوا کہ بچی شمالی امریکا میں کہیں موجود ہے مگر اس سے زیادہ کچھ معلوم نہ ہو سکا۔

ایک تصویر میں نظر آنے والا صوفہ ایک اہم اشارہ بنا۔ معلوم ہوا کہ یہ مخصوص صوفہ پورے ملک میں نہیں بلکہ صرف ایک محدود علاقے میں فروخت ہوتا تھا۔ مگر خریداروں کی تعداد پھر بھی ہزاروں میں تھی۔

تب ٹیم کی نظر ایک اور چیز پر گئی جو بیڈروم کی اینٹوں والی دیوار تھی۔

اینٹوں کا راز

گریگ اسکوائر نے اینٹوں کے بارے میں تحقیق شروع کی اور اینٹوں کی صنعت سے وابستہ ماہرین سے رابطہ کیا۔ جلد ہی ایک تجربہ کار ماہر نے تصویر دیکھ کر بتایا کہ یہ ’فلیمنگ الامو‘ نامی اینٹ ہے جو کئی دہائیاں پہلے امریکی جنوب مغرب کے ایک مخصوص علاقے میں تیار ہوتی تھی۔

مزید پڑھیے: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا بین الاقوامی گروہ بے نقاب، سنسنی خیز انکشافات

اس ماہر نے ایک اہم بات کہی کہ اینٹیں بھاری ہوتی ہیں اس لیے زیادہ دور نہیں لے جائی جاتیں۔ یہ جملہ تفتیش میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔

ٹیم نے صوفے کے خریداروں کی فہرست کو اسی علاقے کے 100 میل کے دائرے تک محدود کر دیا۔ اب ہزاروں کی جگہ صرف چند درجن پتے باقی رہ گئے تھے۔

انجام تک پہنچتی انویسٹیگیشن

سوشل میڈیا کی چھان بین کے دوران ایک تصویر ملی جس میں لوسی ایک بالغ خاتون کے ساتھ تھی جو غالباً اس کی قریبی رشتہ دار تھی۔

مزید تحقیقات سے پتا چلا کہ اسی گھر میں بچی کی والدہ کا بوائے فرینڈ بھی رہتا تھا — جو پہلے سے سزا یافتہ جنسی مجرم تھا۔

چند ہی گھنٹوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی۔ مجرم کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 6 برس تک بچی کو ظلم کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ عدالت نے اسے 70 سال سے زائد قید کی سزا سنائی۔

خاموش دعائیں اور ایک نئی زندگی

برسوں بعد جب گریگ اسکوائر کی ملاقات لوسی سے ہوئی جو اب 20 برس کی ہو چکی ہے تو اس نے بتایا کہ جب اسے بچایا گیا تو وہ مسلسل دعا کر رہی تھی کہ یہ سب ختم ہو جائے۔ وہ دعا بالآخر قبول ہوگئی۔

مزید پڑھیں: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مجرم چاہے کتنی ہی چالاکی سے اپنے نشانات مٹائیں لیکن سچ اکثر معمولی تفصیلات میں چھپا ہوتا ہے اور مستقل مزاجی، باریک بینی اور انسانی عزم ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈارک ویب ڈارک ویب کا جال ڈارک ویب کی شکار لڑکی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈارک ویب ڈارک ویب کا جال ڈارک ویب

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج