بیڈروم کی دیوار نے ڈارک ویب کے جال میں پھنسی لڑکی کو کیسے بچایا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
انٹرنیٹ کا وہ تاریک گوشہ جہاں خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے رسائی حاصل کی جاتی ہے اور مجرم اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں۔ اسی تاریکی میں ایک 12 سالہ بچی کی زندگی برسوں تک قید رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ماہر آن لائن تحقیق کار گریگ اسکوائر اور ان کی ٹیم ایک ایسی بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے انہوں نے فرضی نام ’لوسی‘ دیا تھا۔ اس کی دل دہلا دینے والی تصاویر ڈارک ویب پر شیئر ہو رہی تھیں۔
مجرم انتہائی محتاط تھا اور تصاویر کو اس طرح کاٹ کر پیش کیا جاتا کہ کوئی شناختی نشان باقی نہ رہے۔ نہ مقام کا اندازہ، نہ گھر کا پتہ، نہ خاندان کی کوئی جھلک۔ یہ کیس تقریباً ناممکن دکھائی دینے لگا تھا۔
معمولی تفصیلات، بڑی پیشرفتتحقیقاتی ٹیم نے تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ کمرے کی روشنی کے سوئچ، برقی ساکٹس، بیڈ شیٹ، کھلونے ہر چیز کو غور سے دیکھا گیا۔ اندازہ ہوا کہ بچی شمالی امریکا میں کہیں موجود ہے مگر اس سے زیادہ کچھ معلوم نہ ہو سکا۔
ایک تصویر میں نظر آنے والا صوفہ ایک اہم اشارہ بنا۔ معلوم ہوا کہ یہ مخصوص صوفہ پورے ملک میں نہیں بلکہ صرف ایک محدود علاقے میں فروخت ہوتا تھا۔ مگر خریداروں کی تعداد پھر بھی ہزاروں میں تھی۔
تب ٹیم کی نظر ایک اور چیز پر گئی جو بیڈروم کی اینٹوں والی دیوار تھی۔
اینٹوں کا رازگریگ اسکوائر نے اینٹوں کے بارے میں تحقیق شروع کی اور اینٹوں کی صنعت سے وابستہ ماہرین سے رابطہ کیا۔ جلد ہی ایک تجربہ کار ماہر نے تصویر دیکھ کر بتایا کہ یہ ’فلیمنگ الامو‘ نامی اینٹ ہے جو کئی دہائیاں پہلے امریکی جنوب مغرب کے ایک مخصوص علاقے میں تیار ہوتی تھی۔
مزید پڑھیے: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا بین الاقوامی گروہ بے نقاب، سنسنی خیز انکشافات
اس ماہر نے ایک اہم بات کہی کہ اینٹیں بھاری ہوتی ہیں اس لیے زیادہ دور نہیں لے جائی جاتیں۔ یہ جملہ تفتیش میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔
ٹیم نے صوفے کے خریداروں کی فہرست کو اسی علاقے کے 100 میل کے دائرے تک محدود کر دیا۔ اب ہزاروں کی جگہ صرف چند درجن پتے باقی رہ گئے تھے۔
انجام تک پہنچتی انویسٹیگیشنسوشل میڈیا کی چھان بین کے دوران ایک تصویر ملی جس میں لوسی ایک بالغ خاتون کے ساتھ تھی جو غالباً اس کی قریبی رشتہ دار تھی۔
مزید تحقیقات سے پتا چلا کہ اسی گھر میں بچی کی والدہ کا بوائے فرینڈ بھی رہتا تھا — جو پہلے سے سزا یافتہ جنسی مجرم تھا۔
چند ہی گھنٹوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی۔ مجرم کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 6 برس تک بچی کو ظلم کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ عدالت نے اسے 70 سال سے زائد قید کی سزا سنائی۔
خاموش دعائیں اور ایک نئی زندگیبرسوں بعد جب گریگ اسکوائر کی ملاقات لوسی سے ہوئی جو اب 20 برس کی ہو چکی ہے تو اس نے بتایا کہ جب اسے بچایا گیا تو وہ مسلسل دعا کر رہی تھی کہ یہ سب ختم ہو جائے۔ وہ دعا بالآخر قبول ہوگئی۔
مزید پڑھیں: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مجرم چاہے کتنی ہی چالاکی سے اپنے نشانات مٹائیں لیکن سچ اکثر معمولی تفصیلات میں چھپا ہوتا ہے اور مستقل مزاجی، باریک بینی اور انسانی عزم ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈارک ویب ڈارک ویب کا جال ڈارک ویب کی شکار لڑکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈارک ویب ڈارک ویب کا جال ڈارک ویب
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔