آئین و قانون کی تشریح آئینی عدالت کا اختیار ہے، جسٹس عامر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عدالت نے قرار دیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم سے پہلے آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا تھا۔ نئی آئینی اسکیم کے تحت آئین و قانون کی تشریح آئینی عدالت کا اختیار ہے۔
جسٹس عامر فاروق کے تحریر کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے وفاقی آئینی عدالت قانون سازی کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ آئین اسے شریح کے کسی بھی مقدمہ کا ریکارڈ منگوانے کا اختیار بھی دیتا ہے۔
فیصلے کے مطابق ستائیسویں ترمیم سے سپریم کورٹ کے آئین کی تشریح اور قانون سازی کے جائزہ کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں ۔ جسٹس عامر فاروق نے یہ اہم فیصلہ سیلز ٹیکس کے مقدمہ میں تحریر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔