بی جے پی آئین کو تباہ کررہی ہے عوام سازش سے ہوشیار رہیں، تیجسوی یادو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آج بی جے پی کے لوگ سماج میں نفرت بڑھانے کا کام کر رہے ہیں، بی جے پی ملک کو کمزور کرنے والے کاموں میں مصروف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے اتوار کو حکمراں جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار قابض لوگ بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین کو تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کے خلاف ہوشیار رہیں۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ آر جے ڈی نے ہمیشہ اپنے آباؤ اجداد کا احترام کیا ہے۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ آر جے ڈی کے سربراہ لالو یادو نے اپنے آباؤ اجداد کے نظریات کی بنیاد پر سماج کو آگے بڑھانے کا کام کیا، جب کہ آج بی جے پی کے لوگ سماج میں نفرت بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر ملک کو کمزور کرنے والے کاموں میں مصروف ہونے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت نے استحصال زدہ، محروم، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلتوں اور قبائلیوں کو 16 فیصد ریزرویشن سے محروم رکھا، ہم لوگوں نے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کر کے سب کے ساتھ انصاف کیا اور ریزرویشن کو بڑھا کر 65 فیصد کر دیا، لیکن عظیم اتحاد کی حکومت بدلتے ہی ڈبل انجن حکومت نے ریزرویشن کو لٹکانے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں غریبوں، استحصال زدہ لوگوں، ریہڑی پٹری والوں اور سبزی فروشوں کے گھروں اور دکانوں کو اُجاڑا جا رہا ہے۔ بہار میں شراب بندی مہم کو ناکام قرار دیتے ہوئے آر جے ڈی کے لیڈر نے کہا کہ حکومتی سطح پر مافیا کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تیجسوی یادو نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی آر جے ڈی یادو نے کا کام
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔